تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 344
تاریخ احمدیت 344 جلد ۲۰ میرے غوثیہ کالج میں سائنس کی جماعتیں شروع کر دی جائیں گی۔۳۱ احمدیت جس تیزی اور جماعت احمدیہ کا ذکر اخبار مانچسٹر گارڈین میں وسعت کے ساتھ مغربی افریقہ میں پھیل رہی تھی اس کا نقشہ اخبار مانچسٹر گارڈین نے اس سال درج ذیل الفاظ میں کھینچا : - راسخ العقیدہ مالکی مسلمانوں کے علاوہ برٹش مغربی افریقہ میں مسلمانوں کا ایک اور چھوٹا سا فرقہ ہے جو احمد یہ کہلاتے ہیں ان کا مرکز پاکستان میں ہے۔اس جگہ ان کی تبلیغی مساعی کا آغاز ۱۹۲۰ء میں ہوا۔یہ تحریک بسرعت بڑھ رہی ہے۔عیسائیوں اور مشرکوں سے اس قدر افراد اس تحریک کو اپنا رہے ہیں کہ گولڈ کوسٹ میں ۱۹۳۱ء میں ان کی تعداد ۳۱۱۰ تھی۔جبکہ ۱۹۴۸ء میں یہ ۲ ۲۲۵۷ ہو گئی۔اس طرح ملک کے تمام حصوں میں ان کی تبلیغ مؤثر ثابت ہورہی ہے۔ان کے اپنے مدارس بھی قائم ہیں جن میں سیکنڈری معیار کے مطابق بہت تعلیمی سہولتیں ملتی ہیں اور سارے مغربی افریقہ میں۔گیمبیا - کو چھوڑ کر باقی تمام علاقوں میں ان کی مساعی جاری ہے۔جہاں ان کے مبلغین کو اس وجہ سے داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی کہ پہلے ہی ملک میں کافی مذاہب ہیں۔تحریک احمدیت کے لئے ان کی تبلیغی جدوجہد ان کا ترقیاتی معاشرتی اور معین پروگرام محدود فرقہ جات کے لحاظ سے مفید ثابت ہوا ہے۔کٹر مسلمانوں کے نزدیک اس تحریک کے پیرو مومن نہیں بلکہ عیسائیوں اور یہودیوں سے کم درجہ کے مشرکین جیسے ہیں۔احمدیوں کا دعوی ہے کہ ان کی جماعت کے بانی (حضرت) مرزا غلام احمد صاحب بیک وقت اپنے زمانہ میں حضرت محمد صلعم حضرت یسوع مسیح اور حضرت کرشن کے بروز تھے۔سیاسی لحاظ سے احمدی صرف تبلیغ کی آزادی چاہتے ہیں اور احمدی ہر جگہ اپنے عقیدہ و ذاتی ضمیر کے لحاظ سے اپنی ہر حکومت کی خواہ وہ کوئی بھی ہو امداد کرتے ہیں۔جماعت احمدیہ کے مرکز ربوہ پاکستان سے کوئی سیاسی ہدایات جاری نہیں کی جاتیں اور نہ ہی اس کا امکان ہے۔(ترجمہ از ایسٹ افریقن ٹائمنز نیروبی مورخه ۱۵ جون ۱۹۵۹ء صفحه ۴ )