تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 340 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 340

تاریخ احمدیت 340 جلد ۲۰ قیادت میں ان سے مفصل ملاقات کر کے انہیں دعوت حق دی اور قرآن کریم (انگریزی ترجمہ ) اور دیگر اسلامی لٹریچر کا تحفہ پیش کیا جو انہوں نے کمال مسرت و احترام سے قبول کیا اور اس کے بعد قریباً دس ہزار کے کے مجمع میں جس میں پنجاب سرکار کے کئی وزیر اور ایم ایل اے بھی موجود تھے اس ملاقات اور تحفہ کا خاص طور پر ذکر کیا اور بتایا کہ : - " مجھے آج بہت خوشی ہوئی ہے۔قادیان سے میرے پاس مسلمان بھائی آئے انہوں نے قرآن شریف کی کاپی بھینٹ (نذر) کی میں نے ان سے کہا آپ نے مجھے سب سے قیمتی چیز پیش کی ہے اس سے بڑھ کر اور کوئی چیز پیاری نہیں۔آپ نے اپنی سب سے پیاری چیز ۲۷ 66 آج مجھے دی ہے۔جماعت احمدیہ کی اس عظیم خدمت دین کو ہندوستان کے مسلم پریس اور مسلم عمائدین نے نہایت درجہ قدر اور استحسان کی نظر سے دیکھا اور زبر دست خراج تحسین ادا کیا۔چنانچہ جماعت اسلامی ہند کے آرگن سہ روزہ دعوت (دہلی ) نے اپنی ۴ جون ۱۹۵۹ء کی اشاعت میں زیر عنوان ” قادیانی وفد ونو با بھاوے جی کی خدمت میں حسب ذیل نوٹ شائع کیا : - ا بھی جب اچاریہ دونو بھاوے پنجاب کا دورہ کر رہے تھے تو قادیان کی جماعت احمدیہ کے ایک وفد نے ان سے ملاقات کی اور ان کی خدمت میں قرآن کریم کا ترجمہ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پیش کی جس پر ونو با بھاوے جی نے اپنے خصوصی تاثرات کا اظہار کیا۔انہوں نے مختلف مغربی مستشرقین اور ایشیائی مستشرقین کے انگریزی تراجم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس نے نہ صرف یہ کہ ان انگریزی ترجموں کو پڑھا ہے بلکہ گجراتی ، مرہٹی زبانوں کے علاوہ اردو زبان میں بھی بعض تراجم اور تفاسیر بھی دیکھی ہیں۔اس سلسلہ میں آپ نے مولانا ابوالکلام آزاد کے ترجمان القرآن کی دو جلدوں کے مطالعہ کا بھی ذکر کیا۔آپ نے کہا ”اس وقت بھی میرے پاس قرآن کریم کا ایک نسخہ موجود ہے جو قاعدہ یسرنا القرآن کی طرز پر طبع شدہ ہے۔“ سیرت کی کتاب کو ونو با بھا وے جی نے بڑے اشتیاق سے قبول کیا