تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 334
تاریخ احمدیت 334 ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک دین کو برتری بخشتا رہے گا اور مجھے امید ہے میری اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد ہمیشہ دین کے جھنڈے کو اونچا کرتی رہے گی اور اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی قربانی کے ذریعے سے (دینِ حق ) کے جھنڈے کو ہمیشہ اونچا ر کھے گی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچائے گی۔میں اس دعا میں ہر احمدی کو شامل کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کا حافظ و ناصر ہو اور ان کو اس مشن کے پورا کرنے کی توفیق دے۔وہ کمزور ہیں لیکن ان کا خدا ان کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ خدا ہو اسے انسانوں کی طاقت کا کوئی ڈر نہیں ہوتا۔دنیا کی بادشاہتیں ان کے ہاتھ چومیں گی اور دنیا کی حکومتیں ان کے آگے گریں گی بشرطیکہ نبیوں کے سردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق یہ لوگ نہ بھولیں اور دین کے جھنڈے کو اونچا رکھنے کی کوشش کرتے رہیں۔خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو ہمیشہ ان کی مدد کرتا رہے اور ہمیشہ ان کو سچا راستہ دکھاتا رہے۔بے شک وہ کمزور ہیں تعداد کے لحاظ سے بھی اور روپے کے لحاظ سے بھی اور علم کے لحاظ سے بھی لیکن اگر وہ خدائے جبار کا دامن مضبوطی سے پکڑیں گے تو خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں ان کے حق میں پوری ہوں گی۔اور دینِ حق کے غلبہ کے ساتھ ان کو بھی غلبہ ملے گا اس دنیا میں بھی اور اگلی دنیا میں بھی۔خدا تعالیٰ ایسا ہی کرے اور قیامت کے دن نہ وہ شرمندہ ہوں نہ ان کی وجہ سے حضرت مسیح موعود یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شرمندہ ہوں۔نہ خدا تعالیٰ شرمندہ ہو کہ اس نے ایسی نالائق جماعت کو کیوں چنا۔یہ خدا تعالیٰ کا لگایا ہوا آخری پودا ہے جو اس پودے کی آبیاری کرے گا۔خدا تعالیٰ قیامت تک اس کے بیج بڑھاتا جائے گا اور وہ دونوں جہان میں عزت پائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ اے عزیز و ! ۱۹۱۴ء میں خدا تعالیٰ نے اپنے دین کی خدمت کا بوجھ مجھ پر رکھا تھا۔اور میری پیدائش سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ میری خبر دی تھی۔میں تو ایک حقیر اور ذلیل کیڑا ہوں۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے مجھے نوازا اور میرے ذریعہ سے دین کو دنیا میں قائم کیا۔جس خدا نے میرے جیسے حقیر انسان کے ذریعہ سے دنیا میں دین کو قائم کیا میں جلد ۲۰