تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 17
تاریخ احمدیت 17 نہیں جانا چاہئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اسلام تو آج کل اس طرح بیمار ہے جس طرح امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے وقت امام زین العابدین بیمار تھے۔اور کفر یزید کی فوجوں کی طرح جوش مار رہا ہے لیکن ذرا مسلمانوں میں بیداری پیدا ہو جائے تو دیکھنا کہ انشاء اللہ تعالیٰ کفر میدان میں دم توڑ رہا ہوگا اور اسلام کی فوج میں اس قدر جوش ہوگا کہ اس کی مثال دنیا میں پہلے کسی قوم میں نظر نہیں آئے گی اور ہر جگہ ( دین حق ) کا جھنڈا اونچا ہوگا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم ہوگی۔۴۔یہاں ہماری اسٹیٹس کو قائم ہوئے چوبیں چھپیں سال گزر چکے ہیں۔ناصر آباد اسٹیٹ تو ۱۹۳۵ء میں قائم ہوئی تھی لیکن احمد آباد۱۹۳۳ء سے اور محمود آباد ۱۹۳۴ء سے قائم ہیں۔اس کے بعد محمد آباد ۱۹۳۷ء میں اور بشیر آباد ۱۹۳۹ء میں قائم ہوئیں۔مگر باوجود اس کے کہ ان اسٹیوں کو قائم ہوئے ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے اب تک یہاں جماعت کے بڑھنے کی رفتار بہت کم ہے۔میرا خیال ہے کہ اگر ان ساری اسٹیٹیوں کے احمدی ملا لئے جائیں تو باوجود اس کے کہ ان میں بہت سے مہاجر بھی ہیں پھر بھی ہزار ڈیڑھ ہزار سے زیادہ احمدی نہیں ہوں گے حالانکہ جس رفتار سے احمدیوں کو بڑھنا چاہئے تھا اگر اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایک احمدی سالانہ ایک ایک آدمی بھی جماعت میں شامل کرنے کی کوشش کرتا تو اب تک یہاں پچاس ہزار سے زیادہ احمدی ہوتے لیکن مجھے افسوس ہے کہ اس طرف کوئی توجہ نہیں۔اور ہماری جماعت کے قیام کی جو اصل غرض ہے اس کی پرواہ نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے ان کی حالت ایک جیسی چلی جاتی ہے۔۔۔سندھ میں ہی چانڈیہ، خاص کیلی ، گرگیز اور ببر وغیرہ کئی قومیں ہیں اور ہر قوم کے پانچ پانچ سات سات آٹھ آٹھ لاکھ افراد ہیں۔بلکہ چانڈیوں کی تعداد تو اس سے بھی زیادہ ہے۔سو آپ لوگوں کو اپنی حالت میں تبدیلی پیدا کرنی چاہئے اور اپنے فرائض کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں نے ایسے ہی لوگوں کو دیکھ کر جو اپنے فرائض کی طرف پوری جلد ۲۰