تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 314
تاریخ احمدیت 314 والا زمیندار بھی اتنا اچھا گزارہ کر سکتا ہے جتنا ایک ڈپٹی کمشنر کرتا ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ عملاً ایسا ہو جائے۔عملاً جب تک ایسا نہیں ہوتا سات ایکڑ کا ما لک چپڑاسی جیسا گزارہ بھی نہیں کر سکتا۔چنانچہ جن ملکوں میں زراعت کی طرف توجہ نہیں کی جاتی وہاں چپڑاسی کی حیثیت ایک زمیندار سے زیادہ ہے۔ایک دفعہ مغربی افریقہ کے ایک احمدی نے جو چپڑاسی کا کام کرتا تھا مجھے لکھا کہ میں ریاست کی نوابی کے لئے کھڑا ہو رہا ہوں میرے لئے دعا کریں۔میں نے لکھا تم تو چپڑاسی ہو۔اور نوابی کے لئے کھڑے ہور ہے ہو۔اس نے لکھا کہ یوں تو میرا باپ یہاں کا نواب تھا لیکن چپڑاسی کو یہاں اتنی تنخواہ مل جاتی ہے کہ زمیندارہ میں اتنی آمد نہیں ہوتی۔لیکن پھر بھی میری خواہش یہ ہے کہ میں نواب بن جاؤں۔نواب بن جانے پر مجھے خود زمیندارہ نہیں کرنا پڑے گا۔ہاں ٹیکس وغیرہ کی آمدنی ہوگی۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اب تک دو احمدی مغربی افریقہ میں نواب ہو چکے ہیں۔اب ایک بادشاہ کی جگہ خالی ہوئی ہے اور ایک لڑکے کا خط آیا ہے کہ میرے لئے دعا کریں میں بادشاہ ہو جاؤں۔ہمیں اس کے بادشاہ ہونے سے اتنی دلچسپی نہیں جتنی دلچسپی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام سے ہے کہ 66 بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ ہم چاہتے ہیں کہ بعض جگہوں کے بادشاہ ہماری زندگی میں ہی احمدی ہو جائیں اور وہ برکت ڈھونڈ نے لگ جائیں۔تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کا یہ الہام ہم اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھیں۔(اس کے بعد ایک خط امریکہ سے ایک نو مسلمہ کا آیا جس میں اس نے ذکر کیا ہے کہ شاہ فاروق کی والدہ ملکہ نازلی نے میرے خاوند کا جو وہاں مبلغ ہے ایک عیسائی رسالہ کی تردید میں ایک مضمون پڑھا تو انہوں نے کہا کہ اسلام کی خدمت احمدیوں کے سوا اور کوئی نہیں کر رہا۔جب ایک ملکہ کو اس طرف توجہ پیدا ہوئی تو بادشاہ کو بھی ہو سکتی ہے۔جلد ۲۰