تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 292 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 292

تاریخ احمدیت 292 جلد ۲۰ گیا اور احمد یہ سیکنڈری سکول کماسی کے ہوسٹل کا قیام عمل میں آیا اور ملک صاحب تبلیغی فرائض کی بجا آوری کے ساتھ سیکنڈری سکول میں عربی اور دینیات کی کلاسیں بھی لیتے رہے۔مولوی فضل الہی صاحب انوری احمد یہ عربی سکول سویڈرو کے ہیڈ ماسٹر تھے۔آپ نے سکول کے سلیبس اور ٹائم ٹیبل کو نئے سرے سے ترتیب دیا اور لائبریری کے لئے بہت سی کتب مصر سے منگوا ئیں۔وزیر اعظم غانا ڈاکٹر کو وامی نکروما کی شادی پر انہیں سکول کی طرف سے پیغام تہنیت کے علاوہ سلسلہ احمدیہ کی چھ کتب کا ایک سیٹ بطور تحفہ ارسال کیا جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔مارچ ۱۹۵۸ء میں افریقن مسلمانوں کے مذہبی راہنما الحاج امام عباس احمدیہ عربی سکول میں تشریف لائے اور عربی زبان کو فروغ دینے کے سلسلہ میں احمد یہ سکول کی مساعی کو بہت سراہا۔جناب انوری صاحب عیسائی مشنوں کے سربراہوں کی ایک میٹنگ میں بھی شامل ہوئے جو انڈسٹریل سکول کے پرنسپل کی طرف سے طلباء کے مذہبی اور اخلاقی بہبود کے سلسلہ میں بلائی گئی تھی۔آپ نے عام طلباء کی اخلاقی اور مسلمان طلباء کی مذہبی تربیت کے بارے میں تجاویز پیش کیں۔اس سال مشن کو اشاعت دین میں خاصی کامیابی ہوئی۔دورانِ سال ۲۹۸ نفوس حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔غانا میں بعض نئی جماعتوں کے قیام کے علاوہ فرانسیسی افریقہ میں بھی دونئی جماعتیں قائم ہوئیں جن میں سے ایک آئیوری کوسٹ اور دوسری فرانسیسی سوڈان میں تھی۔فرانسیسی مقبوضات میں باقاعدہ کسی مبلغ احمدیت کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔غانا کے افریقن احمدی تجارت کی غرض سے سفر کرتے اور پیغام احمدیت پہنچاتے رہے۔جماعت احمد یہ غانا ایک عرصہ سے دار الحکومت اکرا میں بیت الذکر اور مشن ہاؤس کے لئے زمین حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی جو اس سال کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور حکومت نے اس غرض کے لئے مفت زمین دے دی۔اس سال عیسائی صحافت نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ جماعت احمدیہ کی تبلیغی مشرقی افریقہ مساعی کے نتیجے میں عیسائیت ( دین حق ) کے مقابل پر پسپا ہورہی ہے۔اس ضمن میں مولانا شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ کے قلم سے الفضل ۱۲ رفروری ۱۹۵۸ء صفحہ ۷ پر ایک مضمون بھی چھپا جس میں آپ نے عیسائی اخباروں کے درج ذیل اقتباسات شامل مضمون کئے :-