تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 265 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 265

تاریخ احمدیت وو 265 مباہلہ کوئی کھیل اور مذاق نہیں بلکہ عقائد کے فیصلے کا ایک آخری طریق ہے۔اس لئے اس میں تمام شرائط اور حالاتِ حاضرہ کو ملحوظ رکھنا از بس ضروری ہے وہ شرائط حسب ذیل ہیں :- اول:- مباہلہ سے پہلے عقائد کے بارہ میں اچھی طرح تبادلہ خیالات ہو جانا چاہئے تا کہ فریقین کسی غلط فہمی میں مباہلہ کا اقدام نہ کر لیں۔دوم مباہلہ قوم کے سر بر آوردہ اور لیڈروں کے درمیان ہونا چاہئے جن کی ذاتی حیثیت اور وجاہت قوم پر اثر انداز ہو سکے۔سوم: - مباہلہ کے فیصلہ کے لئے حسب حدیث نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم ) ضروری طور پر ایک سال میعاد ہونی چاہئے۔بصورت ثانی مباہلہ سنت طریق کے خلاف ہوگا۔جلد ۲۰ ضروری نوٹ : - موجودہ حالات میں احمدیوں کی طرف سے دعوتِ مباہلہ کا دیا جانا مناسب نہیں کیونکہ اس سے دو فریق میں کشمکش پیدا ہونے کا احتمال ہوسکتا ہے جو موجودہ دور میں مستحسن نہیں۔کیونکہ تجربہ سے یہ ثابت ہے کہ عام لوگ مباہلہ کی اصل روح سے ناواقف ہیں اس لئے اسے منافرت کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔پس جماعتیں مطلع رہیں اور ایسی دعوت پر مرکز کی طرف رجوع کریں۔“ احمدیت کے مایہ ناز فرزند اور پاکستان کے ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا نیا اعزاز نامور سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو کیمبرج یونیورسٹی نے دنیائے سائنس میں آپ کی گراں قدر خدمات اور زبر دست تحقیقات کی بناء پر آپ کو مشہور عالم انعام ہاپکنس پرائز کا مستحق گردانا۔اس نئے اعزاز پر پاکستان کے روز نامہ ڈان نے اپنی ۹ / دسمبر ۱۹۵۸ء کی اشاعت میں مندرجہ ذیل خبر شائع کی جو اس کے نامہ نگار خصوصی مقیم لندن جناب نسیم احمد صاحب نے ارسال کی تھی :- 9 لندن ۸/دسمبر۔جوہری توانائی کے نامور پاکستانی سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو جو لنڈن یونیورسٹی میں شعبہ ریاضیات کے صدر ہیں ہاپکنس پرائز کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ہاپکنس پرائز (HOPKIN'S PRIZE) کیمبرج یونیورسٹی میں اول اول ۱۸۶۷ء میں شروع ہوا تھا۔اور سب سے پہلے سرجی جی سٹوکس (SIR G۔G۔STOKES " جیسی