تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 249
تاریخ احمدیت 249 کی ناصرات الاحمدیہ کی سیکرٹری رہیں۔پھر مقامی لجنہ کے کاموں میں بھی سرگرمی کے ساتھ کام کرتی رہیں۔ملک کی تقسیم کے بعد زخمی اور حاجت مند مہاجرین کی خدمت کے لئے والنٹیئر نرس کے طور پر بھی خدمت خلق کرتی رہیں۔ان خدمات کے باعث لجنہ اماء اللہ سیالکوٹ اور دوسری خواتین کی متعلقہ تنظیموں میں آپ کی پر خلوص اور بے لوث خدمات کی وجہ سے آپ کو محبت اور احترام سے دیکھا جاتا تھا۔سیدہ طینت مرحومہ کو اکثر سچی خوابیں آتی تھیں۔بعض خوابوں کی بناء پر انہیں یہ خیال تھا کہ ان کی وفات اسی ملک میں ہوگی۔اور اس امر کے متعلق کئی دفعہ اشارہ کر چکی تھیں۔کہ انہیں تو امریکہ کی مٹی کھینچ لائی ہے۔ہسپتال میں داخل ہونے سے پہلے ایک خواب دیکھ چکی تھیں جس کی بناء پر وہ سمجھتی تھیں کہ ان کی وہاں سے واپسی نہ ہو سکے گی۔مرحومہ کو بچپن ہی سے ٹائیفائڈ کے ایک حملے کے زیر اثر حرکت قلب کی تکلیف تھی جو آخر اس ملک میں آکر جان لیوا ثابت ہوئی۔مرحومہ کی وفات کی خبر حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ ، مرکز اور آپ کے عزیزوں کو تار کے ذریعے کرنے کے بعد امریکہ کی جماعتوں کو بھی کر دی گئی تھی۔اور جنازہ کے وقت سے بھی اطلاع دے دی گئی تھی۔چنانچہ ۱۸ / مارچ بروز منگل جنازہ میں شمولیت کے لئے واشنگٹن، نیو یارک، بالٹی مور، نیکس ٹاؤن، کلیولینڈ، ڈیٹن ، شکاگو، ڈیٹرائٹ ، اور سینٹ لوئیس سے احباب پہنچ گئے۔جو احباب یا جماعتیں جنازہ میں شامل نہ ہوسکیں ان کی طرف سے تعزیت کے تار درجنوں کی تعداد میں موصول ہوئے۔پٹس برگ کی ہماری احمدی بہنوں نے مرحومہ کو خود غسل دیا اور کفن پہنایا۔جنازہ قریباً پونے دو بجے بعد دو پہر پٹس برگ مشن میں ہوا۔جس کے بعد مرحومہ کو اسی قبرستان میں دفن کیا گیا جس میں امریکہ مشن کے پہلے شہید مرزا منور احمد صاحب مرحوم مبلغ سلسلہ مدفون ہیں۔اللہ تعالیٰ کی عجیب حکمت ہے کہ سلسلے کے مغربی ممالک کے مشنوں میں سے صرف امریکہ میں ہی دو خدام سلسلہ کی وفات ان کے زمانہ جہاد میں جلد ۲۰