تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 9 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 9

تاریخ احمدیت 9 ا۔” میں جماعت کے دوستوں کو ایک بار پھر اس وقف (یعنی وقف جدید ) کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ہماری جماعت کو یادرکھنا چاہئے کہ اگر وہ ترقی کرنا چاہتی ہے تو اُس کو اس قسم کے وقف جاری کرنے پڑیں گے اور چاروں طرف رُشد و اصلاح کا جال پھیلانا پڑے گا یہاں تک کہ پنجاب کا کوئی گوشہ اور کوئی مقام ایسا نہ رہے جہاں رُشد و اصلاح کی کوئی شاخ نہ ہو۔اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ایک مربی ایک ضلع میں مقرر ہو گیا اور وہ دورہ کرتا ہوا ہر ایک جگہ گھنٹہ گھنٹہ دو دو گھنٹہ ٹھہرتا ہوا سارے ضلع میں پھر گیا۔اب ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ ہمارے مربی کو ہر گھر اور ہر جھونپڑی تک پہنچنا پڑے گا اور یه اسی وقت ہو سکتا ہے جب اس نئی سکیم ( یعنی وقف جدید ) پر عمل کیا جائے اور تمام پنجاب بلکہ کراچی سے لے کر پشاور تک ہر جگہ ایسے آدمی مقرر دیئے جائیں جو اُس علاقہ کے لوگوں کے اندر رہیں اور ایسے مفید کام کریں کہ لوگ ان سے متاثر ہوں۔وہ اُنہیں پڑھا ئیں بھی اور رُشد و اصلاح کا کام بھی کریں۔اور یہ جال اتنا وسیع طور پر پھیلایا جائے کہ کوئی مچھلی باہر نہ رہے کنڈی ڈالنے سے صرف ایک ہی مچھلی آتی ہے لیکن اگر مہا جال ڈالا جائے تو دریا کی ساری مچھلیاں اُس میں آ جاتی ہیں۔ہم ابھی تک کنڈیاں ڈالتے رہے ہیں۔ان کی وجہ سے ایک ایک مچھلی ہی ہمارے ہاتھ آتی رہی ہے۔لیکن اب مہا جال ڈالنے کی ضرورت ہے اور اس کے ذریعہ گاؤں گاؤں اور قریہ قریہ کے لوگوں تک ہماری آواز پہنچ جائے گی۔۔۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد اس وقف کی طرف توجہ کرے اور اپنے آپ کو ثواب کا مستحق بنائے۔یہ مفت کا ثواب ہے جو تمہیں مل رہا ہے۔اگر تم اسے نہیں لو گے تو یہ تمہاری بجائے دوسروں کو دیدیا جائے گا۔خطبه جمعه ۳ /جنوری ۱۹۵۸ء) ۲۔میں نے جو شکل وقف کی جماعت کے سامنے پیش کی ہے اور جس کے ماتحت میرا ارادہ ہے کہ پشاور سے کراچی تک اصلاح وارشاد کا جال بچھا دیا جائے اس کے لئے ابھی بہت سے روپیہ کی ضرورت ہے اس کام کے لئے کم سے کم چھ لاکھ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہے اگر چھ لاکھ روپیہ سالانہ آنے جلد ۲۰