تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 6 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 6

تاریخ احمدیت 6 جلد ۲۰ اصر هو الن برادران جماعت احمدیہ السلام عليكم ورحمة الله وبركاته میں نے اس سال ۲۷ / دسمبر کو ارشاد و اصلاح کی ایک اہم تجویز پیش کی تھی جس کے دو حصے تھے ایک وقف اور ایک چندہ۔چندہ میں نے کہا تھا گو لازمی نہیں۔لیکن ہر احمدی کوشش کرے کہ چھ روپے سالانہ یکمشت یا بارہ اقساط میں دیا کرے۔ہماری جماعت میں آسانی سے ایک لاکھ آدمی ایسا پیدا ہو سکتا ہے۔اور اگر وہ ایسا کریں تو رشد و اصلاح کی تحریک کو ہم بڑی آسانی کے ساتھ ڈھاکہ سے کراچی تک اور کراچی سے ملتان اور لاہور سے ہوتے ہوئے راولپنڈی کے راستہ سے پشاور اور ہزارہ کی وادیوں میں پھیلا سکتے ہیں۔وقف کی تحریک گودیر سے شروع ہوئی مگر خدا کے فضل سے شروع ہوگئی ہے۔میرے اس خطبہ کے بعد پانچ درخواستیں آ چکی ہیں۔جن میں سے دو مولوی فاضل اور میٹرک اور ایک معمولی تعلیم کا آدمی ہے۔میں نے جلسہ میں بتایا تھا کہ ہم پانچویں جماعت کے آدمی کو بھی اس کام کے لئے لے سکتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ ایسا نوجوان کسی زیادہ تعلیم یافتہ آدمی کے ساتھ لگا دیا جائے گا۔مدرسہ احمدیہ میں جو اردو کا کورس شروع ہے۔اس کے مکمل ہونے میں بھی پانچ سال لگیں گے جس کے بعد انشاء اللہ پچاس طالب علم ہمیں مل جائیں گے پرائمری پاس جماعت میں اب بھی پچاس ساٹھ ہزار آدمی موجود ہے لیکن وہ آگے نہیں بڑھ رہا۔اور ستی دکھا رہا ہے۔اور خدا تعالیٰ کو چیلنج کر رہا ہے کہ اس کو بدل کر اس کی جگہ اور آدمی پیدا کر دے۔مگر چندہ کا معاملہ جو وقف سے بہت سستا تھا۔اس کے لئے ایک درخواست بھی نہیں آئی۔حالانکہ ایک لاکھ آدمی کی درخواست کی ضرورت تھی۔یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے اور ضرور پورا ہو کر رہے گا۔میرے دل میں چونکہ خدا تعالیٰ نے یہ تحریک ڈالی ہے۔اس لئے خواہ مجھے اپنے مکان بیچنے پڑیں۔کپڑے بیچنے پڑیں۔میں اس فرض کو تب بھی پورا کروں گا۔اگر جماعت کا ایک فرد بھی میرا ساتھ نہ دے