تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 5
تاریخ احمدیت تھا۔LO 5 جلد ۲۰ اس نئی سکیم کی تفصیلات پر حضور نے ۲۷ / دسمبر ۱۹۵۷ء کے خطاب جلسہ سالانہ میں مزید روشنی ڈالی اور ارشاد فرمایا:- ”اب میں ایک نئی قسم کے وقف کی تحریک کرتا ہوں۔میں نے اس سے پہلے ایک خطبہ ۱۹ جولائی ۱۹۵۷ء میں بھی اس کا ذکر کیا تھا اور اس وقت بہت سے لوگوں نے بغیر تفصیلات سنے اپنے آپ کو پیش کر دیا تھا میں نے ان کو کہہ دیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی اور میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر تقریر میں اس نئے وقف کی تفصیلات بیان کر دیں تو ان تفصیلات کوسن کر اگر تم میں ہمت پیدا ہوئی تو پھر اپنے آپ کو پیش کر دینا۔میری اس وقف سے غرض یہ ہے کہ لاہور سے لے کر کراچی تک ہمارے معلمین کا جال پھیلا دیا جائے اور تمام جگہوں میں تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر یعنی دس دس پندرہ میل پر ہمارا معلم موجود ہو۔اور اس نے مدرسہ جاری کیا ہوا ہے یا دوکان کھولی ہوئی ہو اور سارا سال علاقہ کے لوگوں میں رہ کر کام کرتا رہے اور گو یہ سکیم بہت وسیع ہے مگر میں نے خرچ کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع میں صرف دس واقفین لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ممکن ہے کہ بعض واقفین افریقہ سے لئے جائیں یا اور غیر ملکوں سے بھی لئے جائیں مگر بہر حال ابتداء دس واقفین سے کی جائے گی اور پھر بڑھاتے بڑھاتے ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔۵ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے وقف جدید کی وقف جدید سے متعلق پہلا خصوصی پیغام۔مزید وضاحت کے لئے جلسہ سالانہ ۱۹۵۷ء کے چند روز بعد ۵/جنوری ۱۹۵۸ء کو احباب جماعت کے نام حسب ذیل خصوصی پیغام سپر د قلم فرمایا : - بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم و على عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ