تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 210 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 210

تاریخ احمدیت 210 جلد ۲۰ روانگی کے وقت جو ٹی پارٹی ہمیں دی گئی اس میں سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے خاکسار کو تین اہم نصائح فرمائیں اول جو لوگ زیر تبلیغ ہیں ان سے واقفیت پیدا کی جائے۔دوم وہاں کی زبان اور عادات کا غور سے مطالعہ کیا جائے۔سوم ملکی سیاسی معاملات میں دخل نہ دیا جائے۔ان تین نصائح میں سے میرے لئے دوسری نصیحت کا دوسرا حصہ قابل تعجب تھا۔یعنی لوگوں کی عادات کا مطالعہ۔لیکن جب میں پاڈ نگ پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ مکرم مولانا رحمت علی صاحب کی کامیابی کا راز اسی میں مضمر ہے۔انہوں نے ان لوگوں کی عادات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیا۔ان میں گھل مل گئے۔حتی کہ ان میں سے ہر ایک یہی خیال کرتا کہ مولانا صاحب ان کے گھرانے کے ایک فرد ہیں۔احمد یوں کو تو احمدیت کی وجہ سے مولانا صاحب سے ایک نہ ٹوٹنے والا رشتہ محبت پر مجبور کر رہا تھا۔لیکن میں نے خود اپنی آنکھوں سے غیر احمدیوں کو دیکھا کہ وہ بھی آپ سے بہت محبت کرتے۔وہ احمدی نہ تھے لیکن وہ مولوی صاحب سے ضرور محبت کرتے اور عزت بھی کرتے۔پاڈنگ میں ہمارے دار التبلیغ کے پہلو میں ایک عرب رہا کرتا تھا۔جب وہ کوئی اچھا کھانا پکاتا تو مولانا صاحب کو ضرور بھجوا دیتا۔اور جب ملتا تو خوشی اور محبت سے ملتا۔اسی تعلق کے نتیجہ میں مولانا صاحب کے جانے کے بعد مجھ سے بھی اس کے تعلقات اچھے رہے۔انڈونیشیا میں پگڑی پہننے کا رواج نہیں لیکن مولوی صاحب اور خاکسار ہمیشہ پگڑی استعمال کرتے رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس کا پہلا فائدہ تو یہ تھا کہ جو شخص بھی ہمیں دیکھا خیال کرتا کہ یہ نئے آدمی ہیں اس طرح کئی دفعہ گفتگو کا موقعہ مل جاتا۔وہ دوسرا فائدہ یہ تھا کہ دوسرے لوگوں کو یہ خیال ہوتا کہ یہ لوگ نقال نہیں۔مکرم مولوی صاحب کا دلائل کی برکت سے اتنا رعب تھا کہ علماء مولانا صاحب کو دیکھ کر ڈر جاتے اور کئی لوگ یہ کہتے کہ مولوی رحمت علی صاحب کی پگڑی کے اوپر کے شملے میں جادو بھرا ہے۔ایک بات جو میں نے مولانا صاحب کی دیکھی وہ یہ تھی کہ قرآن مجید ہمیشہ ساتھ رکھتے۔چھوٹی سی حمائل شریف تھی سیاہ رنگ میں جلد بندھی ہوئی تھی۔اور اس پر چند آیات نوٹ کی ہوئی تھیں۔جب کسی سے گفتگو شروع ہوئی اور آیت پیش کرتے تو مد مقابل کے پوچھنے پر فوراً نکال کر اسے دکھا دیتے اس لئے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ مولوی صاحب حافظ قرآن ہیں۔اسی خیال کے مدنظر مجھے بھی نصیحت فرماتے کہ قرآن مجید ہمیشہ اپنے ساتھ رکھا کرو۔چنانچہ میں نے اس نصیحت