تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 208
تاریخ احمدیت 208 جلد ۲۰ خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل جالندھری نے لکھا: - ” ہمارے مرحوم بھائی حضرت مولوی رحمت علی صاحب مجاہد سلسہ انہی برگزیدہ بندوں میں سے ایک تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی کہ وہ ربع صدی سے زیادہ عرصہ تک وطن سے دور اپنے اہل واقارب سے جدا ہو کر خدمتِ دین بجالائیں۔ان کی یہ قابلِ رشک قربانی اور ایثار احمدیت کے نونہالوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگی۔اور تاریخ احمدیت ہمیشہ ان کا نام زندہ رکھے گی اور خدائے ارحم الرحمن ان کی نسلوں پر ان کے خلوص کے مطابق اپنے فضلوں کی بارش برسائے گا۔اور خود حضرت مولوی صاحب جنت الفردوس میں خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے انعامات سے بہرہ اندوز ہوں گے۔حضرت مولوی صاحب اپنی سادگی اور بے تکلفی کے باعث اپنے ہمعصروں میں ایک نمایاں وجود تھے۔ہر بات بغیر کسی بناوٹ اور تصنع کے بیان کرتے تھے اور صاف گوئی ان کا شعار تھا۔بظاہر گمان ہوتا تھا کہ اپنی طبیعت کے لحاظ سے بیرونی ممالک میں شاید آپ زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت جس رنگ میں آپ کے شامل حال رہی اور جس طرح آپ نے انڈونیشیا میں احمدیت کی اشاعت میں کامیابی حاصل کی وہ اس امر پر واضح دلیل تھی کہ یہ سلسلہ خدائی سلسلہ ہے اور حضرت مولوی رحمت علی صاحب ان فدایانِ سلسلہ میں سے ایک مقبول وجود ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ خود نوازتا ہے۔انڈونیشیا سے آنے والے مبلغین اور وہاں کے طلبہ سے حضرت مولوی صاحب کی ابتدائی مشکلات اور جاں شاری کے واقعات سن کر ایمان تازہ ہوتا ہے اور دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مرد مجاہد کی روح کو زیادہ سے زیادہ اپنے فضل کے سایہ تلے رکھے اور درجات کی بلندی عطا فرمائے۔آمین۔حضرت مولوی رحمت علی صاحب کی وفات سے احمدیت کے علمبرداروں کی موجودہ صف اول میں خلا پیدا ہو گیا ہے۔اور خاموش و بے ریا مگر ٹھوس کارکنوں میں کمی واقع ہو گئی ہے۔نئے نو جوانوں کا فرض ہے کہ اپنی زندگیوں میں ایسی تبدیلی پیدا کریں اور ایسی جانفشانی سے علم وعمل کی وادیوں میں جد و جہد کریں کہ جلد تر پرانے کارکنوں سے قائمقام بن سکیں۔بہر حال یہ الہی سلسلہ ہے اور خدائی وعدے بہر حال پورے ہو کر رہیں گے۔حضرت مولوی رحمت علی صاحب کی زندگی اور ان کی نمایاں خدمات میں ان کے والد مرحوم حضرت مولوی بابا حسن محمد صاحب کی پرسوز دعاؤں کا خاص حصہ تھا وہ بے نفس پرانے رفیق دن رات اٹھتے بیٹھتے خود بھی دعا کرتے اور دوسروں سے بھی دعا کے لئے درخواست کرتے رہتے تھے