تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 202
تاریخ احمدیت 202 جلد ۲۰ حضرت مسیح موعودؓ سکونت پذیر ہیں۔میں ایک چار پائی پر بیٹھا تھا کہ سامنے چھت پر غالباً کسی ذرا اونچی جگہ پر حضور آکر تشریف فرما ہوئے۔نہا کر آئے تھے بال کھلے ہوئے تھے۔جسم نگا تھا یہ شکل خصوصیت سے مجھے ویسی ہی معلوم ہوئی جو میں خواب میں دیکھ چکا تھا۔اور مجھے مزید یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالیٰ نے میری ہدایت کے لئے مجھے دکھلایا تھا۔دیگر کوائف : - ازاں بعد مجھے وقتاً فوقتاً جلسہ سالانہ اور دیگر موقعوں پر حاضر ہو کر قدم بوسی کا موقعہ ملتا رہا۔مگر افسوس ہے کہ ان مبارک مجلسوں کے کوائف قلمبند کرنے کا کبھی خیال نہ آیا۔اور نہ ہی یہ خیال آیا کہ بعد کی ضروریات مجبور کر دیں گی کہ حضور کے اقوال فراہم کئے جاویں۔66 حضرت منشی برکت علی خاں صاحب کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ آپ کو اپنے خاندان میں سب سے پہلے حلقہ بگوش احمدیت ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔بیعت کے بعد آپ نے اس زور شور سے اپنے خاندان میں تبلیغ شروع کر دی کہ تھوڑے ہی عرصہ میں آپ کے بہنوئی (اور محترم خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب کے والد ماجد ) حضرت مولوی عمر الدین صاحب ساکن صریح ضلع جالندھر احمدی ہو گئے اور پھر یکے بعد دیگرے متعدد افراد خاندان نور احمدیت سے منور ہو گئے جنہوں نے بعد میں نمایاں طور پر خدمت دین کی توفیق پائی جن میں خان صاحب مولوی فرزند علی خانصاحب سابق امام بیت فضل لنڈن و ناظر بیت المال کا اسم گرامی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔آپ دسمبر ۱۸۹۲ء میں گورنمنٹ آف انڈیا کے دفتر ڈائریکٹر جنرل انڈین میڈیکل سروس شملہ میں ملازم ہوئے تھے۔۱۹۰۳ء میں آپ کے دفتر بارک ماسٹری شملہ کو سوا لاکھ روپیہ لاٹری میں ملا۔جس میں سے قریباً ساڑھے سات ہزار روپیہ ہر ملازم کے حصہ میں آیا۔آپ روپیہ ملتے ہی قادیان پہنچے اور حضرت مسیح موعود کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ لاٹری کا روپیہ حلال ہے یا حرام؟ حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا : - یہ روپیہ تمہارے لئے جائز نہیں اس لئے فی سبیل اللہ مساکین و یتامی میں تقسیم کر دیں۔( دینِ حق ) اس وقت غربت کی حالت میں ہے اس لئے یہ روپیہ اشاعت ( دین حق ) پر بھی خرچ ہو سکتا ہے۔“ آپ فرماتے ہیں۔” میں نے پہلے ہی نیت کر لی تھی کہ حضور اجازت بخشیں گے تو یہ روپیہ میں اپنے مصرف میں لاؤں گا ورنہ نہیں چنانچہ میں نے وہ سب روپیہ ایک ایک سو دو دوسو