تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 193
تاریخ احمدیت 193 جلد ۲۰ احمدیت کی تبلیغ کرتے رہے تھے مولوی محمد بیٹی صاحب کے متعلق مکرم والد صاحب فرماتے تھے کہ وہ پیر کوٹھا شریف علاقہ مردان کے مرید تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی سے پیشتر جب یہ پیر صاحب فوت ہونے لگے تو اپنے مریدوں کو وصیت کر گئے کہ مہدی پیدا ہو گیا ہے مگر اس کا ظہور نہیں ہوا۔جس وقت وہ دعویٰ کرے تو مان لینا۔چنانچہ مولوی محمد بیٹی صاحب کے والد صاحب نے اپنی وفات کے وقت اپنے پیر صاحب کی وصیت اپنے لڑ کے مولوی محمد بیٹی کو پہنچا دی۔بعد میں مولوی محمد بیچی صاحب ایک روز تحصیل مانسہرہ میں تشریف لائے۔وہاں پر کچھ عرائض نویس ایک اخبار پڑھ رہے تھے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کا بھی ذکر تھا۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف نے قادیان کا ایڈریس لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خط تحریر کیا اس پر حضرت اقدس نے انہیں کچھ رسالہ جات بھیجواتے ہوئے دعا کے لئے تحریر فرمایا مولوی صاحب نے استخارہ کیا تو ان کو کہا گیا یـــــایـــــیــــی خذ الكتاب بقوة اس پر مولوی صاحب بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے۔چنانچہ مکرم والد صاحب مولوی صاحب کے مندرجہ بالا حالات سے متاثر ہوکر اور ان کی اور اپنے ماموں شیخ نور احمد صاحب کی تبلیغ سے احمدیت میں شامل ہوئے۔آپ نے جنوری ۱۹۰۷ ء میں بیت مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کی۔اس وقت تک آپ کے نہیال کے جملہ رشتہ دارا حمدیت میں شامل ہو چکے تھے۔مگر آپ کے ددھیال میں سے آپ ہی اکیلے احمدی تھے۔ان دنوں آپ کے قادیان کے قیام کے عرصہ میں سعد اللہ لدھیانوی کی وفات کی تار قادیان آئی تو آپ بتاتے تھے کہ حضور علیہ السلام نے اس وقت فرمایا کہ ہم کو کسی کی موت کی خوشی نہیں ہوتی البتہ خدا تعالیٰ کا نشان پورا ہونے کی خوشی ہوتی ہے۔عرصہ ملازمت میں ۱۹۰۷ء سے ۱۹۱۸ء تک علی الترتیب ضلع گورداسپور ہوشیار پور، سیالکوٹ ، انبالہ اور ملتان میں کام کرنے کے بعد ۱۹۱۹ء میں آپ دوبارہ ضلع گورداسپور کی تحصیل شکر گڑھ میں بطور قانونگو متعین ہوئے۔اس عرصہ میں آپ مختلف اوقات میں قادیان تشریف لاتے رہے۔مگر ۱۹۱۹ء سے ۱۹۳۸ء تک آپ با قاعدہ جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کے علاوہ اکثر