تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 183 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 183

تاریخ احمدیت 183 جلد ۲۰ جو احمدیت کے عاشق صادق ہیں۔چندہ بھی بڑی مقدار میں دیتے ہیں۔اور تبلیغی جوش بھی رکھتے ہیں۔انہوں نے اپنی پریکٹس کا نقصان کر کے چند ماہ فلپائن میں تبلیغ کے لئے وقف کئے جس کے نتیجہ میں وہاں کی جماعت تین سو سے زیادہ ہو گئی ہے۔اس جماعت کے پریذیڈنٹ وہاں کے ایک مقامی دوست حاجی ابا ہیں جو نہایت مخلص اور سرگرم مبلغ ہیں۔ان کے ذریعہ وہاں بڑے طبقہ میں تبلیغ ہوری ہے۔پچھلے سال ایک جزیرہ کا گورنر بھی احمدی ہو گیا تھا۔مگر باغیوں نے اسے قتل کر دیا۔اب ایک ڈپٹی کمشنر احمدی ہوا ہے۔وہاں کے ایک نوجوان کو ربوہ بلا کر تعلیم دلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔مگر فلپائن کی حکومت اسے پاسپورٹ دینے میں روک ڈال رہی ہے۔اس عرصہ میں فلپائن کا ایک مخلص احمدی اسامہ نامی با وجود گورنمنٹ کی روکوں کے فلپائن سے برطانوی بور نیو آ گیا۔اور وہاں سے ملایا ہوتا ہوا ر بوہ پہنچ گیا اور اب تعلیم پا رہا ہے۔اس کی صحت کچھ خراب ہے۔تحریک اس کا لاہور میں علاج کروا رہی ہے۔احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کو شفاء دے۔اور پھر اسے اپنے ملک میں کام کرنے کی بھی توفیق دے۔اس علاقے میں جو افراد احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔ان میں سے بڑی تعداد ہے۔اسی طرح گرلز کالج کی بہت سی لڑکیاں ( دینِ حق ) میں یو نیورسٹی کے طالب علموں پر داخل ہوگئی ہیں۔حضور نے فرمایا : - برٹش بور نیو برٹش بورنیو میں ایک انگریز گورنر نے مقامی علماء کو ملا کر ہماری جماعت کے خلاف محاذ قائم کر لیا تھا۔ڈاکٹر بدرالدین صاحب نے دلیری سے گورنر اور گورنمنٹ کا مقابلہ کیا۔اور وہ علاقہ جس میں گورنر چاہتا تھا کہ احمدیت نہ پھیلے وہاں کے کچھ لوگوں کو اپنے پاس بلا کر تبلیغ کی۔اور وہ احمدی ہو گئے۔ڈاکٹر صاحب نے ان لوگوں کے ذریعہ اس علاقہ میں بیت الذکر بنانے کی کوشش بھی شروع کر دی ہے اس جزیرہ کے ایک ڈپٹی کمشنر نے ہمارے مبشر قاضی محمد سعید صاحب انصاری کو اپنے علاقہ میں تبلیغ سے باز رکھنے کی کوشش کی بلکہ دھمکی دی کہ میں گرفتار کر لوں گا۔ہم نے گورنمنٹ برطانیہ سے احتجاج کیا۔چونکہ انگلستان میں ظاہری طور پر روداری بہت ہے اس حکومت کے گورنر سے انگلستان کی حکومت نے جواب طلبی کی۔گورنر نے عام قاعدہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر سے رپورٹ مانگی۔ڈپٹی کمشنر نے جھوٹا جواب دیا اور کہا کہ انصاری صاحب نے ملک میں بغاوت پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اور میری ہتک کی تھی۔انگریز دستور کے مطابق گورنر نے