تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 165
تاریخ احمدیت 165 جلد ۲۰ میں ہی وہ برکت ڈال دیتا ہے کہ ان سے اخراجات پورے ہو جاتے ہیں اور کام رکنے نہیں پاتا۔مثال کے طور پر تعلیم الاسلام کالج کی موجودہ عمارت خود اس کا ایک زندہ ثبوت ہے۔آج سے چند سال قبل ہمارا یہ کالج لاہور کے ڈی اے وی کالج کی متروکہ عمارت میں قائم تھا وہ عمارت کہنے کو تو کافی بڑی تھی لیکن تھی بالکل کھنڈر اس کا بیشتر حصہ سرے سے استعمال کے قابل ہی نہ تھا اس کے با وجود بعض اداروں نے سوال اٹھایا کہ یہ عمارت تعلیم الاسلام کالج کے لئے بہت بڑی ہے اس لئے ان سے یہ عمارت واپس لے لینی چاہئے۔اگر وہ عمارت ہم سے لے لی جاتی تو حکومت کو ہمارے لئے کسی متبادل جگہ کا انتظام کرنا پڑتا۔تاہم سیدنا حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ لاہور میں کوئی اور عمارت لینے کی بجائے کالج کو فورار بوہ میں منتقل کرنے کا انتظام کیا جائے۔اب یہاں ربوہ میں ہمارے سامنے کالج کے واسطے ایک موزوں عمارت تعمیر کرنے کا سوال تھا۔عجیب مشکل در پیش تھی۔وافر مقدار میں پیسہ ہمارے پاس تھا نہیں۔ادھر دل یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ ہم کوئی چھوٹی سی بے حیثیت عمارت بنانے پر ہی اکتفا کر لیں۔میں نے حضور کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور جماعت سے عطیہ جات وصول کرنے کی اجازت فرما دیں۔چنانچہ حضور نے اجازت دے دی۔اور محض اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے کام شروع کر دیا گیا۔خدا نے ہماری تھوڑی سی رقم میں وہ برکت ڈالی کہ تھوڑے ہی عرصہ میں تعلیم الاسلام کالج کی موجودہ عظیم الشان عمارت بن کر تیار ہو گئی۔دوسرے لوگوں کو اتنی بڑی عمارت بنانے کے لئے جتنی رقم درکار ہوتی ہے ہمیں اس سے ایک چوتھائی رقم بھی خرچ نہیں کرنی پڑی۔ہمارے لئے یہ معجزہ کر دکھانا کیسے ممکن ہوا۔اس کا جواب یہی ہے کہ ہم بے شک اس قابل نہ تھے کہ معجزہ کر دکھاتے لیکن ہمارے قادر و توانا خدا نے ہماری خاطر یہ معجزہ کر دکھایا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد تھا کہ کالج فوراً ربوہ میں منتقل کیا جائے۔ہم نے نیک نیتی اور صدق دل سے اس کے لئے کوشش کی۔پیسے خود خدا فراہم کرتا چلا گیا۔اور جو پیسے بھی اس نے ہمیں عطا کئے ان میں اس نے ایسی برکت ڈالی کہ ایک ایک پیسہ چار چار پیسوں کے برابر ہو گیا۔لوگ اس عظیم الشان عمارت کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ لوگ بڑے مالدار ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم غریب اور نادار لوگوں کی ایک چھوٹی سی جماعت ہیں۔ہمارے پاس دولت نہیں اور نہ ہم اس کے طالب ہیں البتہ خدا کا فضل ہمارے ساتھ ہے اور وہ ہمیشہ ہی ہم کو اپنی رحمت اور برکت سے نوازتا ہے اس لحاظ سے اپنے امیر ہونے کا ہم انکار نہیں کر سکتے۔البتہ یہ صحیح ہے کہ ہم ان معنوں میں امیر نہیں ہیں جن معنوں میں دوسرے ہم کو امیر سمجھتے ہیں۔ہم امیر ہیں لیکن اس لئے کہ خدا کا فضل ہمارے ساتھ