تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 164 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 164

تاریخ احمدیت 164 جلد ۲۰ سے کام ایسے ہیں جنہیں سرانجام دینا باقی ہے جہاں تک ان کاموں کی سرانجام دہی کا تعلق ہے اس کی ذمہ داری ایک حد تک تو مجلس مرکز یہ پر ہے اور ایک حد تک اس کے ذمہ دار وہ تمام انصار ہیں جو پاکستان میں اور پاکستان سے باہر دوسرے ممالک میں رہتے ہیں۔اب تک مختلف مقامات پر جو مجالس انصاراللہ قائم ہوئی ہیں ان کی تعداد تین سو کے قریب ہے اس کے بالمقابل پاکستان میں ہی جن مقامات پر جماعتہائے احمد یہ قائم اور منظم ہے ان کی تعداد کم و بیش ۸۰۰ ہے اب ظاہر بات ہے کہ جہاں جہاں ہماری جماعتیں موجود ہیں وہاں مجالس انصار اللہ بھی قائم ہوں یعنی جتنی جماعتوں کی تعداد ہے اتنی ہی مجالس کی تعداد ہو اس لحاظ سے صرف پاکستان میں ہی ۸۰۰ مجالس انصار اللہ ہونی چاہئیں۔اگر ہم ۷۹۹ مجالس قائم کر لیں تو بھی ہم تسلی نہیں پاسکتے اس بارے میں اطمینان تو اس وقت ہی ہو سکتا ہے جب ۸۰۰ جماعتوں میں ۸۰۰ مجالس قائم ہو جائیں۔بعینہ یہی کیفیت بیرونی ممالک میں بھی ہونی چاہئے۔بیرونی ممالک میں ہماری جتنی جماعتیں ہیں میں نے ان کی تعداد کا کسی قدر تفصیلی جائزہ لیا ہے۔اس ضمن میں جو اعداد و شمار میرے علم میں آئے ان کی رو سے صرف افریقہ کے مختلف ممالک میں ہماری ۴۰۲ جماعتیں ہیں اس کے علاوہ ایک سو کے قریب جماعتیں انڈونیشیا میں ہیں۔اسی طرح سنگا پور، ملایا اور بور نیو وغیرہ میں اب تک جو جماعتیں قائم ہو چکی ہیں ان کی تعداد ۱۲۷ ہے۔مزید برآں خدا تعالیٰ کے فضل سے امریکہ، انگلستان، مغربی جرمنی ، سوئٹزر لینڈ، ہالینڈ، اسپین ، سکنڈے نیویا، ڈچ گی آنا، برٹش گی آنا ، اور غرب الہند کے دوسرے جزائر میں بھی ہماری جماعتیں ہیں ان کی مجموعی تعدا د ۲۴ کے قریب ہے پھر بر ما سیلون ، ماریشس، اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھی ہماری جماعتیں ہیں۔اگر ان سب کو ملا لیا جائے تو بیرونی ممالک میں ہماری جماعتوں کی تعداد ۸۰۰ سے اوپر بن جاتی ہے۔پاکستان کی طرح بیرونی ممالک کی ان سب جماعتوں میں بھی مجالس انصار اللہ ہونی چاہئیں۔کوئی وجہ نہیں کہ ان جماعتوں میں سے ہر جماعت میں مجلس انصاراللہ قائم نہ ہو۔اس لحاظ سے صرف بیرونی ممالک میں ہی ہماری ۸۰۰ مجلسیں ہونی چاہئیں۔اس میں شک نہیں بیرونی ممالک کی جماعتوں میں مجالس انصار اللہ قائم کرنے کے لئے خط و کتابت پر کافی خرچ کرنا پڑے گا اور ان تمام اخراجات کے لئے روپے کی ضرورت ہوگی لیکن ہمیں اخراجات کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے ہمارے اخراجات کا کفیل خود خدا ہے۔ہمارا بارہا کا تجربہ ہے کہ جب نصرت دین کی خاطر کوئی کام نیک نیتی اور اخلاص سے کیا جائے تو روپیہ خود خدا فراہم کر دیتا ہے اور اگر ہمارے اندازے کے مطابق روپیہ فراہم نہ بھی ہو تو وہ تھوڑے پیسوں