تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 120 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 120

تاریخ احمدیت 120 جلد ۲۰ فصل دوم حضرت سیّدہ ام ناصر کا المناک وصال حضرت سیدہ اُمم ناصر حرم اول حضرت مصلح موعود جو خواتین مبارکہ کی الہامی بشارت کا اولین مصداق ہونے کے باعث آیت اللہ تھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب سے پہلی اور بڑی بہو ہونے کا شرف رکھتی تھیں اس سال ۳۱ جولائی ۱۹۵۸ء کو چھ بجے صبح مری میں انتقال فرما گئیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔(الفضل یکم اگست ۱۹۵۸ء صفحہ ) حضرت سیدہ اُئِم ناصر مری میں قیام فرما تھیں کہ ۱۸؍جولائی ۱۹۵۸ء کو آپ کو بخار ہوا جو مرض الموت ثابت ہوا اور آپ قریباً دو ہفتے بیمار رہنے کے بعد ۳۱ / جولائی ۱۹۵۸ء کو قریباً چھ بجے صبح داغ مفارقت دے گئیں۔خدا کی قدرت ادھر آپ کا انتقال ہوا ادھر حضرت مصلح موعود جابہ کے مقام سے مری کے لئے روانہ ہو گئے اور راولپنڈی پہنچ کر حضور کی خدمت میں یہ درد ناک اطلاع پہنچی کہ حضرت سیدہ کا وصال ہو گیا ہے۔صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔امی جان کو حضور کا بہت انتظار تھا۔اور کئی بار پوچھ بھی چکی تھیں۔مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔وفات کے بعد فوری طور پر تمام بزرگوں اور عزیزوں کو اس سانحہ کی اطلاع ٹیلیفون و تاروں کے ذریعے کر دی گئی۔اسی طرح راولپنڈی کی جماعت کو فون پر ہدایت کر دی گئی کہ جب حضور راولپنڈی پہنچیں تو حضور کو اس کی اطلاع کر دی جائے۔حضور گیارہ بجے کے قریب مری پہنچے۔حضور کے ہمراہ میاں ناصر احمد صاحب و ہمشیرہ ناصرہ بیگم بھی پہنچ گئیں۔کوٹھی پہنچ کر حضور اماں جان کے کمرہ میں تشریف لے گئے اور ان کے سرہانے کھڑے ہو کر اپنی پچپن سالہ شریک زندگی کے چہرے پر نظر ڈالی جو ایک دلر با مسکراہٹ کے ساتھ ابدی نیند سو رہی تھی اور انا للہ پڑھ کر دوسرے کمرے میں تشریف لے گئے اور مجھے فرمایا کہ کیا تمہاری اماں نے کسی خواہش کا اظہار کیا تھا ؟ جس پر میں نے عرض کیا