تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 104 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 104

تاریخ احمدیت 104 other faith۔But by reason of its dignity, the straightforward discipline, the fellowship of the mosque and, above all, its tolerance of African marriage customs and approval of polygamy, Islam makes a strong appeal۔" جلد ۲۰ ( ترجمہ ) دوسرے سرے پر جماعت احمد یہ اس دلچسپ نظریہ کی حامل ہے کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے بلکہ وہاں سے بیچ کر سفر کرتے کرتے کشمیر چلے آئے تھے۔اور وہ سرینگر میں مدفون ہیں۔نیز یہ کہ مسیح کی آمد ثانی ( حضرت ) مرزا غلام احمد ( قادیانی ) کے وجود میں ہو چکی ہے جنہوں نے ۱۹۰۸ء میں وفات پائی۔اگر چہ اس جماعت کے ممبران کی اکثریت پنجاب میں ہے تا ہم اس جماعت کی مسجدیں برطانیہ، ہالینڈ، جرمنی، امریکہ اور دوسرے ممالک میں بھی موجود ہیں۔مشرقی افریقہ میں اس جماعت نے بہت سے اخبارات جاری کر رکھے ہیں۔علاوہ ازیں اس نے سواحیلی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ بھی کیا ہے جس کا پہلا ایڈیشن دس ہزار کی تعداد میں شائع ہوا ہے۔نیز کیکیو زبان میں بھی قرآن مجید کا ترجمہ ہو رہا ہے۔جھیل وکٹوریہ کے علاقہ میں جہاں کے لوگ کینیا کی سیاسیات میں بہت پیش پیش ہیں جماعت احمدیہ کے مبلغین کی مساعی بارآور ثابت ہو رہی ہیں اور وہاں لوگ اس جماعت میں داخل ہور ہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ جماعت جو پہلے پہل تانگانیکا میں پھیلنی شروع ہوئی تھی اب مشرقی افریقہ کے اکثر علاقوں میں پھیلتی نظر آتی ہے۔اس کے مبلغین جو پاکستان سے بھیجے جاتے ہیں اکثر و بیشتر ذہنی اعتبار سے پُراثر شخصیت اور اعلیٰ قوت کردار کے مالک ہوتے ہیں۔اس جماعت کا یہ اصول کہ ہر رکن اپنی آمد کا دسواں حصہ اشاعت ( دینِ حق ) کے لئے ادا کرے مزید ترقی واشاعت کے لئے فنڈ فراہم کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔۲۵ ۲۷ مئی یوم خلافت کی تقریب پر حضرت مصلح موعود کا ایمان افروز پیغام ۱۹۵۸ء کو دنیا کے احمدیت میں پورے جوش و خروش سے ” یوم خلافت‘ منایا گیا۔اس تقریب پر سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی اصلح الموعود نے میاں عطاء اللہ صاحب امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی کی درخواست پر جماعت راولپنڈی کے نام ( بذریعہ ٹیپ ریکارڈر ) حسب ذیل پیغام دیا : -