تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 92
تاریخ احمدیت 92 مظعون، ابراہیم ( فرزند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) ، عبدالرحمن بن عوف اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصحابہ رضوان اللہ علیہم کے مزاروں پر دعا کا موقع نصیب ہوا۔میدانِ احد سے واپسی پر مسجد قبلتین میں نفل ادا کئے پھر مسجد قبا گئے اور وہاں نفل ادا کئے۔واپسی پر مسجد نبوی میں روضہ اطہر پر دعا کی اور مسجد میں نفل ادا کئے۔بعد مغرب پھر مسجد نبوی میں حاضر ہوکر روضہ اقدس پر دعا کی اور نفل ادا کئے۔مدینہ منورہ میں ایک زائر کے دل و دماغ پر کن جذبات کا ہجوم ہوتا ہے ان کا اظہار اسد ملتانی مرحوم نے اس شعر سے کرنے کی کوشش کی ہے جو انہوں نے مدینہ منورہ میں قیام کے دوران میں کہا ہر راہ کو دیکھا ہے محبت کی نظر سے شاید کہ وہ گزرے ہوں اسی راہ گزر سے اور سچ تو یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں تمام وقت ہی اور خصوصاً روضہ اطہر کے قرب میں دل کی جو کیفیت ہوتی ہے اس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں۔۲۵ کی صبح کو نماز فجر کے بعد ہم جدہ واپسی کے سفر پر روانہ ہو گئے۔رستے میں بدر کے مقام کے قریب رک کر جنگ کا مقام دیکھا۔یہ جنگ جس میں قریش کی طرف سے ایک ہزار تجربہ کار جنگ آزمودہ بہادر ہتھیاروں سے پوری طرح مسلح نبرد آما تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی صرف ۳۱۳ افراد جن کے جسموں پر پورا لباس نہ تھا ، ہاتھوں میں پورے اسلحہ نہ تھے۔اور جن میں سے کچھ تو فنِ حرب سے واقف تھے اور کچھ بالکل نا تجربہ کارلڑ کے تھے۔اپنے نتائج کے لحاظ سے دنیا کی تاریخ میں سب سے قاطع اور فیصلہ کن جنگ تھی۔ظاہر بین آنکھ طرفین میں کسی قسم کی نسبت نہیں پاتی تھی لیکن حقیقت بین نگہ میں یہ مقابلہ ایک طرف مادی طاقت پر گھمنڈ اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ پر یقین کامل میں تھا۔یہ کفر اور ایمان کے درمیان فیصلہ کن جنگ تھی۔اگر اس دن بفرضِ محال کفر غالب آتا تو جیسے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت احدیت میں مناجات کرتے ہوئے عرض کیا تھا۔اللہ جل شانہ کی عبادت روئے زمین سے تا ابد مٹ جاتی۔لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ کیونکر منظور ہوسکتا تھا۔وہ تو برسوں پہلے اپنے رسول اور محبوب سے فرما چکا جلد ۲۰