تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 91
تاریخ احمدیت 91 کو یت میں ٹھہرنے کا موقع ہوا تو کویت گودڑ میں سے لعل بن کر برآمد ہو چکا تھا۔اگر چہ ریاض ٹیکساس (امریکہ ) کے شہروں کا مقابلہ کرتا ہے لیکن ٹیکساس کے شہروں کی کوئی عمارت بھی ریاض کے محلات شاہی کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔جلالة الملک بہت تواضع سے پیش آئے اور بڑی ذرہ نوازی کا سلوک روا رکھا۔فجزاہ اللہ۔امیر فیصل ان ایام میں ناسازی طبع کے باعث باہر ریگستان میں تھے اس لئے ان کی خدمت میں حاضری کا موقع نہ مل سکا۔ریاض میں عبدالوہاب عزام صاحب سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔وہ پاکستان میں سفیر مصر کے عہدہ پر فائز رہ چکے تھے۔بہت علم دوست تھے۔انہوں نے علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کے فارسی کلام میں سے منتخبات کا عربی میں ترجمہ کیا ہے۔جب میں ریاض حاضر ہوا وہ وہاں کے دارالعلوم ریکٹر RECTOR تھے اور مختلف شعبوں کی ترتیب اور تنظیم میں منہمک تھے۔افسوس کہ عمر نے وفا نہ کی اور تھوڑا عرصہ بعد داعی اجل کو لبیک کہا۔اللہ تعالیٰ مغفرت کرے۔کے ۲۲ / مارچ کو میں ریاض سے جدے واپس آیاا ور بعد مغرب طواف اور نفل کے لئے پھر حرم حاضر ہوا۔۲۳ / مارچ کی سہ پہر کو مدینہ منورہ حاضر ہونے کا ارادہ تھا لیکن اس دن یومِ پاکستان کی تقریب میں خواجہ صاحب نے وسیع پیمانے پر شام کے کھانے کی دعوت کا انصرام فرمایا تھا اور میری شمولیت پر انہیں اصرار تھا۔انکار کی گنجائش نہ تھی۔اس لئے مدینہ شریف کا سفر بعد مغرب شروع ہوکر نصف شب سے ڈیڑھ ساعت بعد ختم ہوا۔فالحمد للہ۔سڑک پختہ بننے سے پہلے اونٹ کی سواری سے یہ سفر ۱۳ دن سے لے کر ے ا دن میں کہتا تھا۔مدینہ منورہ میں شاہی مہمان خانے میں قیام ہوا۔سفارتخانے کے تجارتی سیکرٹری میرے ہمراہ تھے۔۲۴ کی صبح مسجد نبوی میں حاضر ہو کر روضہ مبارک پر دعا کی اور منبر نبوی اور روضہ مبارکہ کے درمیان نفل ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔مسجد نبوی سے جنت البقیع حاضر ہوئے۔حضرت عثمانؓ ، حلیمہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی والدہ ) عثمان بن جلد ۲۰