تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 77 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 77

،، چوہدری محمد ظفرامند خانصاحب دوسرا اخلاص نامہ اور حضرت مصلح موعود کا پیغام کی طرف سے چند ہفتہ بعد حضرت امام مہام کی خدمت اقدس میں ایک اور مکتوب پہنچا ہے اپنی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر حضور انور نے مندرجہ ذیل ارشادات کے ساتھ سپر واشاعت فرما دیا۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا ایک ضروری خط ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔اس خط سے دو اہم امور کا فیصلہ ہو جاتا ہے ایک امر وہ پروپیگینڈا ہے جو مولوی عبد المنان صاحب کے ساتھی جماعت میں کر رہے ہیں کہ گویا مولوی عبد المنان کی علمی تحقیقاتوں اور کارروائیوں کا شہرہ امریکہ تک پہنچا جس پر امریکہ نے ان کو اپنے ملک میں تقریہ کی دعوت دی اور پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ دعوت چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی سفارش پر ہوئی تھی۔نہ ان کی عالمی شہرت کی وجہ سے جیسا کہ تھوڑے دنوں میں تحقیقی طور پر ثابت ہو جائے گا مولوی عبد المنان صاحب کی مسند احمد کی تبویب نہ کوئی نیا کارنامہ ہے نہ کوئی علمی تحقیق ہے۔یہ کام کوئی چالیس سال سے مسلمانوں میں ہو رہا ہے اور مصر اور ہندوستان کے علماء اس میں لگے ہوئے ہیں۔بلکہ بعض کتابوں سے پتہ لگتا ہے کہ سجن لوگ اس کو مکمل بھی کر چکے ہیں اس میں کوئی است بہ نہیں کہ یہ محنت کا کام ہے ، جیسے ڈکشنری میں سے لفظ نکالنے کا کام محنت کا کام ہوتا ہے۔مگر علمی وسعت نظر کا کام نہیں۔مدرسہ احمدیہ کے بعض پرانے اساتذہ کہتے ہیں کہ جب مولوی عبد المنان صاحب اسکول میں انجمن کے تنخواہ دار ملایم تھے تو خود بھی اپنا وقت اس کام پر صرف کرتے تھے۔اور بعض طلباء سے بھی مدد لیتے تھے۔واللہ اعلم بالصواب بہر حال کوئی نہ کوئی دوست کچھ دنوں تک اس مسئلہ پر تفصیلی اور مکمل روشنی ڈالی دیں گے۔مصر کے ایک عالم نے اس کتاب کی تبویب کی چودہ جلدیں شائع کی ہیں جو کہتے ہیں کراچی اور لاہور میں مل سکتی ہیں۔گو شبہ ہے کہ ابھی کچھ جلدیں شائع ہوئی باقی ہیں۔ان جلدوں میں سے بہت سی ہماری جامعتہ المبشرین کی لائبریری میں موجود ہیں۔اور کچھ جلدیں قادیان کے زمانہ سے میری لائبریری میں موجود تھیں جواب یہاں آگئی ہیں۔ہے بے شک حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایسی کوئی کتاب شائع لہ یہ کتاب الفتح الربانی کے نام سے ۲۱ جلدوں میں کمل طور پر چھپ چکی ہے۔بقیہ صہ