تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 62 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 62

میں ان سے زیادہ عالم ہوں نہ عارف دینی نہ دنیوی نقطۂ نگاہ سے کوئی بات میرے ذہن میں آہی نہیں سکتی۔آپ کے ہاتھ سے ساری عمر میٹھی قاشیں کھا میں ہیں کوئی وجہ نہیں کہ ایک کڑوی قاش کھانے سے انکار کروں آپ کی پہلی مہربانیوں کو بھی انعام ہی سمجھتا رہا ہوں اور آپ کی اس تحریر کو بھی انعام ہی سمجھیوں گیا شائد اس سے نفس کے گناہوں کی تلافی ہو جائے۔شکر گزار ہوں گا اگر حضور میری یہ تحریہ شائع کر دیں۔دعا بھی کریں اللہ تعالیٰ مجھے تا موت خلافت کے دامن سے وابستہ رہنے کی توفیق دے۔آپ کا عبد الوہاب عمر الله حضرت مصلح موعود نے یہ پورا خط الفضل ۱۳۰ جولائی است شاہ کے صفحہ اول پر شائع کرا دیا اور پھر حسب ذیل جواب رقم فرمایا : - دو میاں عبد الوہاب صاحب ! آپ کا خط ملا۔ساری بجیش الفضل میں آرہی ہیں۔مجھے آپ سے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔میوں احمدیوں کی حلفیہ شہادتیں جو عنقریب شائع ہو جائیں گی ان کے بعد پوچھنے کا سوال نہیں رہتا۔خصوصاً جب کہ ۱۹۲۶ء میں مدرسہ احمدیہ کے لڑکوں نے آپ کا اور آپ کے ایک مولوی دوست کا خط پکڑ کر مجھے بھجوا دیا تھا۔جوزاہد کے نام تھا اور جس میں لکھا ہوا تھا۔کہ تمہاری مخالفت مرزا محمود سے ہے۔ان کے متعلق جو چاہو مقابلہ میں لکھو۔مگر ہمارے اور ہمارے دوستوں کے متعلق کچھ نہ لکھو۔اور اس خط کے ساتھ ایک اور شخص کا خط بھی تھا۔جو آپ کے ایک دوست نے ایک عورت کے نام لکھا تھا۔اور میں کے واپس لینے کے لئے آپ اور وہ مولوی صاحب مقبرہ بہشتی جانے والی سڑک پر پیپل کے درخت کے نیچے کھڑے ہوئے ایک لڑکے کے ذریعے سے زاہد سے خط وکتابت کر رہے تھے اور یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ لڑکا مخلص احمد میں ہے۔وہ لڑکا وہ خط لے کر سیدھا میرے پاس پہنچا۔جس میں آپ دونوں اور میرے دوست کے خطوط بھی تھے اور زاہد کا وعدہ بھی تھا کہ اس دوست کو ہم بدنام نہیں کریں گے۔اب ان واقعات کے بعد جب کہ میں نے حضرت خلیفہ اول کی محبت کی وجہ سے اتنی مدت چھپانے له الفضل ۳۰ جولائی ۱۹۵۶ء صدا کالم ۲