تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 751
ہوئے بتایا کہ آنحضرت کسی خاص قوم یا خاص دلیش یا صرف مکہ کے لیے نہیں۔۔۔۔۔۔بلکہ تمام دنیا کی قوموں کی اصلاح کے لیے آپ میسجے گئے تھے آپ نے ہر قسم کی برائی کو دور کرنے کی کوشش کی اور اس میں شاندار طور پر کامیاب ہوئے لیے مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری نے جنوری ۱۹۲۵ء " ربوہ سے رسالہ البشری کا اجراء میں حیفار فلسطین سے ماہنامہ البشری، جاری فرمایا تھا " اس سال آپ نے اکتوبر ، 190 ء سے ربوہ میں بھی اسی نام سے ایک عربی رسالہ کا آغازہ فرما دیا اور نے ۱۹۵ء۔پر نسپل جامعہ احمدیہ جناب سید داؤ د احمد صاحب کو پیشکش کی کہ اگر البشر کی پسند ہو تو جامعہ احمدیہ اسے بخوبی اپنا سکتا ہے آخر جامعہ ہمارا ہے اور ہم جامعہ کے سیدنا حضرت مصلح موعود کی خدمت اقدس میں سبب یہ تجویز پیش ہوئی تو حضور نے اس امر کی خوشی اجازت مرحمت فرما دی اور یہ رسالہ وسط۔سنوری ۱۹۵۹ء سے پرنسپل صاحب جامعہ احمدیہ کی نگرانی میں آگیا اور ملک مبارک احمد صاحب استاذ الجامعہ اس کے مدیر مقرر ہوئے۔سٹی 1909 ء میں اس کا پہلا شمارہ نئے انتظام کے تحت منصہ شہود پر آیا۔جو ظاہری اور باطنی خوبیوں کا مرقع تھا۔اس کے معیاری اور بلند پایہ مضامین اور نفیس طباعت اور بہترین دیزی کاغذ کو دیکھ کر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب نے غایت درجہ خوشنودی کا اظہار فرمایا سے رسالة البشری مرکز احمدیت کا واحد و بار سالہ تھا۔اور اس نے سید وار د احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ ربوہ کی خصوصی سر پرستی اور ملک مبارک احمد صاحب کی مثالی ادارت میں شاندار اور ناقابل فراموش علمی خدمت سر انجام دی اور حضرت مسیح موعود اور حضرت مصلح موعود کی متعدد مقدس تخریبات کو نہایت فصیح وبلیغ اور با محاورہ عربی میں منتقل کر کے انہیں عرب ممالک کے بلند پایہ علمی حلقوں تک پہنچا یا۔چنانچہ البشری میں کشتی نوح اور الومیت کے اقتباسات کے علاوہ" سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب کا مکمل عربی ترجمہ اشاعت پذیر ہوا اسی طرح حضرت مصلح موعود سه بدر ها را اکتوبر ۱۹۵۷ تو منه وصلاته ولادت ۱۹۲۲ء رفات ۶۱۹۸۸ از سیرت داد و صفحه ۳ ، ۴ - ناثر الجمیعتہ العلمیہ بالجامعته الاحمديه بيرلوه تاریخ طبع مارچ ۴ :