تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 703
۶۸۸ میں کیوں محو خواب رہے ؟ اسی طرح میں کہتا ہوں کہ خادم صاحب مرحوم کا وجود بھی جماعت کے ایک طبقہ کے لیے محبت ہے کہ جیب خادم مرحوم نے اپنے ذاتی شوق اور ذاتی کوشش اور ذاتی جد وجہد کے ذریعہ دین کا پختہ علم حاصل کیا اور وکالت جیسے غافل رکھنے والے پیشہ میں مصروف ہونے کے باوجود دین کا پر جوش خادم ره که زندگی گذار می تو تم کیوں اس مقام کو حاصل نہیں کر سکتے ؟ پس اسے وکیلو اور ڈاکٹرو اور اسے تاجر د اور صناعی اور اسے زمیندارو اور اے ودھیرے پیشہ وردا تم پر خادم مرحوم کی زندگی یقیناً ایک محبت ہے کہ تم دنیا کے کاموں میں مصروف رہتے ہوئے بھی دین کا علم حاصل کر سکتے اور دین کی خدمت میں زندگی گذار سکتے ہو۔اسلام تم سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ ساری کی ساری جماعت دنیا کے کاروبار چھوڑ کر دین کی خدمت کے لیے کیلیے وقف ہو جائے بلکہ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ جماعت کا ایک حصہ تو پورے طور پر دین کی خدمت کے لیے وقف ہو۔رجیسا کہ فرمایا لتكن منكم أمة ) اور دوسرا حصہ دنیا کے کاموں میں مصروف رہتے ہوئے اور جائز طریق پر اپنی اور اپنے اہل وعیال کی روزی کماتے ہوئے اپنے اوقات اور اپنے اموال اور اپنے جسم اور اپنے دل و دماغ کے قومی میں سے خدا اور اس کے رسول اور اس کے میسج اور اس کے دین کا واجبی حق نکالے تا وہ دجال کی طرح اندھا نہ ہونے پائے بلکہ اس کی دونوں آنکھیں روشن ہوں اور اس کی زندگی میں دنیا یہ نظارہ دیکھے کہ :۔دل با یار و دست با کار پس عزیز و اور دوستوں خادم مرحوم کی زندگی سے سبق سیکھو تا اس مرحوم نوجوان کی زندگی اور اس کی موت دونوں خدا کی رحمت سے حصہ پائے زندگی اس لیے کہ اس نے غیر معمولی حالات میں اپنی زندگی کو اسلام اور احمدیت کی خدمت میں لگایا۔اور اپنے آپ کو اس کا اہل بنایا۔ارموت اس لیے کہ اس کی وفات سے متاثر ہو کہ تم نے اس کی زندگی سے خدمت دین کا سبق حاصل کیا۔وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین۔خاکسار مرزا بشیر احمد - ریوه ۱۹ دسمبر ۶۱۹۵۸ ¡