تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 702
اور اس پر ذوق و شوق کا یہ عالم تھاکہ جب کسی قلی یا سانی جہاد کا بگل بجتا تھا۔تو وکالت کو الوداع اور ذاتی آرام و آسائش کو خیر باد کہنے کا منظر نظر آتا تھا۔اور خادم صاحب سب کچھ چھوڑ کہ لبیک اللهم لبیک کہتے ہوئے آگے آجاتے تھے ہیں وہ رضا کارانہ جذبہ تھا جس نے قرون اولی میں اسلام کو سر بلند کیا۔اور یہی وہ رستہ ہے جس پر گامزن ہو کہ احمدیت کے فرزند آج پھر دوبارہ اسلام کا مراد نا کر سکتے ہیں۔اور انشاء اللہ یہ ہو کہ رہے گا۔جیسا کہ خدا نے عرش نے حضرت مسیح موعود کو الہام کیا کہ : بخرام که وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار من ترکم افتاد یعنی خوشی کی چال چل کہ اب وہ وقت نزدیک ہے کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے نام لیووں کا پاؤں زمین کی پستی کی بجائے میناروں کی بلندی پر پڑے گا ؟ پس ہمارے نوجوانوں کو خادم صاحب مرحوم کی زندگی سے سبق لینا چاہیے۔انہوں نے دنیا کے کاموں میں حصہ لیتے ہوئے اور وکالت کے فرائض ادا کرتے ہوئے محض اپنے ذاتی شوق اور ذاتی مطالعہ کے نتیجہ میں وہ مقام حاصل کیا تو کئی پورے وقت کے مبلغوں کو بھی حاصل نہیں ہوتا۔انہوں نے اپنے دل میں خدمت دین کا بے پناہ جذبہ پیدا کیا۔مذہبی مباحثات کے علم میں کمال کو پہنچے اور بظاہر واقف زندگی ہونے کے بغیر عملا اپنے اوقات کو خدمت اسلام اور خدمت احمدیت کے لیے وقف رکھ۔ایسے نمونے خدا کی طرف سے جماعت کے لیے حجت ہوا کرتے ہیں اور خدا یہ بتانا چاہتا ہے کہ جب تمہیں میں سے ایک نوجوان اپنی ذاتی کوشش اور ذاتی ولولہ کے نتیجہ ہیں یہ مقام حاصل کر سکتا ہے تو تم کیوں نہیں کر سکتے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام میں نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کو حمتہ اللہ کے نام سے پکارا گیا ہے۔یعنی خدا کی طرف سے لوگوں پر ایک محنت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی تشریح یہ فرمائی ہے۔کہ جب خدا تعالیٰ نے ایک ریاست کے نوابی خاندان کے نوجوان فرد کو جس کے لیے ہر قسم کے عیش و آسائش کے سامان مہیا تھے ، حمدیت کی صداقت کو اس زمانہ میں قبول کرنے کی توفیق دی جب چاروں طرف مخالفت کا زور تھا تو دوسرے صاحب دولت و ثروت خاندانوں کے لیے نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کا احمد بیت کو قبول کرنا قیامت کے دن ایک حجت ہوگا۔کہ جب اس نے اپنے ماحول سے نکل کر صداقت کو قبول کیا۔تو تم اپنے عیش وعشرت