تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 682
746 نے دل کھول کر ان کو تبلیغ فرمائی۔ایک موقعہ پر آپ نے ابتدائی زمانہ میں حضرت اقدس علیہ السلام کو لکھ کہ میں تین رفت یعنی ظہر و عصر اور مغرب کی نمازیں مسجد میں ادا کرنے جاتا ہوں۔لیکن تینوں وقت مجھے شدید گالیاں سنی پڑتی ہیں جضور نے جواب میں تحریر فرمایا کہ آپ جمعہ کی نماز زین العابدین ابراہیم صاحب انجینر کے ساتھ پڑھا کریں۔وہ مخلص احمدی ہیں۔اور باقی نمازیں آپ دکان ہی پر ادا کر لیا کریں۔حضرت سیٹھ صاحب پہلی بار ۱۸۹۸ء میں تادیان تشریف لائے۔ازاں بعد ارا اپریل ۱۹۰۰ ء کو آپ کو خطبہ الہامیہ حضرت اقدس کی زبان مبارک سے سننے کا شرف حاصل ہوا۔اس موقعہ پر ہیں ، اتنی میں بعد نماز عصر ایک گروپ فوٹو بھی لیا گیا جنہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السّلام اور آپ کے خدام ہیں۔اس گروپ فوٹو میں حضرت سیٹھ صاحب بھی شریک ہیں۔اکتوریه ۱۹۱۷ ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی شادی ہوئی۔اس مبارک تقریب پر حضرت سیٹھ صاحب نے ایک عمدہ سرخ رنگ کی منی ٹوپی بنوائی اور اس پر یہ الہام لکھوایا۔مظهر الحق والعلاء كان الله نزل من اسماء اور حضرت اقدس سے درخواست کی کہ نکاح کے وقت یہ ٹوپی دولہا کو پہنا دی جائے اس کے علاوہ ایک شیمی اوڑھنی جس میں زرین نیتے وغیرہ ٹانکے تھے امن کے لیے بھجوائی یہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس محبت آمیز تحفہ پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے اپنے دوبہت مبارک سے ۳۰ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو مندرجہ ذیل خط آپ کے نام تخریبیہ فرمایا۔له الفضل ۲۹ جنوری ۱۹۵۸ ء مره