تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 666
۶۵۱ بلند پایہ انشا پرداز تھے جنینی تصنیفات آپ نے یاد گار چھوڑی ہیں ان کی فہرست خاصی طویل ہے شیخ داؤد احمد صاحب عرفانی فرماتے ہیں کہ : - (خاکسار محمد اسماعیل پانی پتی شم ہوش و تو اس آخری وقت تک صحیح تھے۔نارنج گرنے کے بعد زبان تو بند تھی لیکن دایاں ہاتھ جو اچھا تھا اس سے اشارے سے قلم ما نگتے اور لکھ دیتے آخری الفاظ جو انہوں نے لکھے وہ یہ تھے مجھے امانتاً دفن کیا جائے اور سیٹھ صاحب رعبداللہ بھائی صاحب میرا جنازہ پڑھائیں۔ان کے آخری وقت پر ان کے پاس میری بیوی کی چھوٹی بہن صداقت میگیم بیزت فیروز علی صاحب مرحوم اور عائشہ میگیم اہلیہ یوسف احمد صاحب الہ دین - حضرت سیٹھ صاحب کی بہو تھیں حضرت سیٹھ صاحب کا پوتا صالح محمد بھی اور میرے ہم زلف مسیح الدین الہ دین اور والد صاحب کا قدیم نہ فیق اور نوکر شریعت موجود تھے۔آخری سالن جب دیا ہے تو ان کا سر عائشہ بیگم کی گود میں تھا بڑی خوش قسمت خاتون ہیں کہ ان کو ایک بڑے جلیل القدر رفیق اور مورخ سلسلہ کے آخری لمحوں میں خدمت کا موقع ملا۔ہم تو محروم ہی رہے۔اس لیے کہ مجھے ہر خط میں لکھتے رہے کہ آنا نہیں۔کیونکہ میری صحت اچھی نہ تھی بعارضہ زمہ بیمار تھا۔یہ ان کی بے پایاں شفقت اور محبت تھی۔حضرت سیٹھ صاحب کے خاندان کے ہر فرد نے اتنی بے حساب خدمت کی اور بے حساب دعائیں بھی انہوں نے ان کے لیے کیں : حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کے نواسے جناب سیٹھ صالح محمد الہ دین صاحب کا بیان ہے کہ: میں نے ان سے ذکر کیا کہ میرا ارادہ ہے کہ اس سال جلسہ سالانہ ریوہ میں شرکت کردن به سن کر حضرت عرفانی صاحب پر رقت طاری ہوگئی اور انہوں نے فرمایا : - جب جاؤ گے تو حضرت صاحب کی خدمت میں مرے اس وزہد کا اظہار کرتا اور کہنا ہ گھر ہم دور ہیں لیکن ہمارے دل نہ دور نہیں ہیں اور میری تو یہی خواہش رہی کہ حضور کے قریب دردورہ ه روز نامه الفضل ربوه مار مئی ۱۹۵۸ء مد کے مولانا ظهر اسماعیل صاحب وکیل یادگیر فرماتے ہیں سیٹھ (یوسف الہ دین) صاحب قبلہ اور یوسف الہ دین - حافظ صالح محمد صاحب مسیح الدین اللہ دین۔بیٹیر الدین اله دین سیٹھ علی محمد صاحب - راشد احمد الہ دین صاحب۔طور یسین صاحب چونکہ سکندر آباد میں رہتے تھے اس لیے ان کو زیادہ خدمت کے مواقع نصیب تھے۔(الفصل ۲۸ جنوری ۱۹۵۸ ص ۳)