تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 661 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 661

لیے زور دیا اور ایک پروگرام ایسے لیکچروں کے لیے تجویز کیا۔میں اس رائے پر مضبوطی سے قائم متھا کہ ۱۹۰۹ کے جلسہ میں صاحبزادہ محمود احمد صاحب کی تقریہ نے مجھے اپنی غلطی سے آگاہ کہ دیا اور اس جلسہ میں اس تجویز کے نقائص کا میں نے اقرار کر لیا اور اب میں اس کو احمدی سلسلے کی ترقی کی راہ میں روک سمجھتا ہوں عرض جہاں مجھے اپنی غلطی کا علم ہوا میں نے اس کو چھوڑنے کی خدا کے فضل سے کوشش کی ہے۔محضر یہ کہ ایڈمیرا لکم نے جی عریض اور مقصد کو لے کر بحیثیت ایڈیٹر الحکم کام شروع کیا تھا اس میں نمایاں کامیابی ہوئی تھی۔اور ان مشکلات میں سے گزر کہ مجھے یہ دیکھکر خوشی ہوئی کہ قوم میں اخبار بینی اور اخبار نویسی کا مذاق پیدا کرنے میں الحکم بامراد ہوگیا۔جہاں صرف الحکم کے سوا اوراخبار تین رسالے خاص قادیان سے اور ایک اختبارا در رسالہ دربی سے اس سلسلہ کا نکلتا ہے اللهم زد نزد۔میں جب اس کام سے فارغ ہو چکا تو میں نے حضرت خلیفۃ المسیح کے حضور الحکم سے فرصت پا کر اور کام کرنے کا ارادہ کیا۔مگر انہوں نے اپنی فراست خدا داد سے المحکم کا کام نہ چھوڑنے کا مجھ سے عہد لیا اس لیے خدا ہی کے فضل سے اس عہد پر قائم رہنے کی توفیق چاہتا ہوں اس سے الحکم کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔اختبار کو ایک وسیع پیمانے پر چلانے کے لیے میں نے مشین پریس کا سلسلہ جاری کیا مگر یہ سچ ہے عرفت ربي بفسخ العزائم۔مجھے اپنے اس ارادہ میں محض ناکامی ہوئی اور کارخانہ سات ہزار کا زیر بار ہو گیا۔اور اس کے مالی مشکلات کا ایک نیا باب ایڈیٹر الحکم کے سامنے آیا۔ایک موقعہ پر ان مشکلات سے نکلنے کا ایک امتحان میرے سامنے آیا اور وہ بھی بہت بڑا ابتلاء تھا۔احکم تمام زیر باریوں سے نجات اور آئندہ کے لیے ایک ایسی باڈی کے ہاتھ میں جا سکتا تھا کہ جہاں تک اسباب کا تعلق ہے مالی مشکلات کا اسے سامنا نہ ہو۔مگر جس شرط سے ہیں اس مھاری بوجھ سے نکل سکتا تھا میرے لیے وہ نہایت گراں اور ناقابل برداشت تھی۔اور وہ یہی تھی کہ میں اپنی رائے سات ہزار روپے کے عوض بیج۔دوں۔اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو وسیع کر دیا اور جیسے امرتسر کی ایک ہزار کی تھیلی اس وقت کے حالات کے ماتحت میری رائے نہیں خرید سکی اب سات ہزارہ کا جادو مجھ پر موٹا نہیں ہوا۔اور میں کسی اخبار نویس کی زندگی کا یہی پہلو شاندار سمجھتا ہوں کہ خوف اور لالچ اس کی رائے اور ضمیر پر موثر نہ ہو گر یہ خدا کے فضل کے بدوں نا کی ہے۔الحکم نے مسلمانوں کے کامن کازمیں ہمیشہ وہ رائے دمی جو اس کی سمجھ میں مفید تھی اور جب دو