تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 627 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 627

کے بالکل ساتھ بیٹھ کہ بندہ نے کھانا کھایا۔حضور بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے روٹی کے برائے نوالہ بنا کر آہستہ آہستہ لکھاتے تھے۔اور جب تک تمام مہمان کھانا نہ کھالیتے۔حضور کھا نا سے ہاتھہ نہ اٹھاتے۔جب حضور کھانے سے فارغ ہوتے۔تو ایک روٹی میں سے بھی کافی حصہ بچا ہوا ہوتا۔حضور خشک شدہ ساگ اور اچار دہی وغیرہ جو میتر ہوتا۔کھانے کے لیے منگواتے۔تو پاس کے دوستوں کو بھی عنایت فرمانے کھانا نگے سر کبھی نہ کھاتے تھے۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے۔کہ کھانا کھاتے کھاتے سر درد کی تکلیف کچھ شروع ہو گئی۔اس لیے حضور دستار مبارک کو درد کی وجہ سے اتار کر رکھتے۔لیکن پھر جلد ہی سر پر رکھ لیتے۔اسی طرح کئی دفعہ کیا۔جس سے معلوم ہوا۔کہ حضور کھانا کی خاطر پھر دستار مبارک بار بار رکھ لیتے ہیں۔غرض ایسی تکلیف کے وقت بھی ننگے سر کھانا کھانا پسند نہیں فرماتے تھے۔کھانا عموماً ایک ہی قسم کا ہوتا تھا۔ہاں اگر کوئی شخص پہلے سے کہ دیتا تھا۔کہ میرے لیے خشکہ چاول یا اور کوئی پر بینری کھانا درکار ہے۔تو اس کے لیے اس جگہ وہی کھانا آجاتا تھا۔حضور کھانے کے وقت کچھ باتیں بھی فرمایا کرتے تھے۔اور خندہ بھی کسی کسی وقت فرماتے تھے۔اور نہایت بے تکلفانہ نشست حضور کی ہوتی تھی۔آجکل کے پیروں کی طرح کوئی خاص مسند نہیں ہوتی تھی۔حضور بعد نماز مغرب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی زندگی میں بہت مبارک میں شہ نشین پر اکثر دفعہ بیٹھ کہ خدام کا اپنی زیارت اور پاک کلام سے عشاء کی نماز تک شرف بخشتے تھے۔اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب حضور سے کئی مسائل دریافت فرماتے۔اور حضور اس کا جواب دیتے۔اور مہمانوں سے باتیں فرماتے۔ایک دفعہ کا واقعہ مجھے یاد آ گیا ہے۔کہ بعد نماز مغرب حضور شہ نشین پر مشرقی کی طرف رخ فرمائے تشریف فرما تھے۔اور چاند کی تاریخ پندرا سولہ غالبا تھی۔اندھیرے میں جب مشرق سے چاند طلوع ہوا۔تو یہ عاجہ مغرب کی طرف (حضور کے چہرہ مبارک کی طرف منہ کر کے بیٹھا ہوا تھا۔مجھے نظر آیا۔کہ حضور کے چہرہ مبارک سے شعاعیں نکلتی ہیں۔اور چاند کی شعاعوں سے ٹکراتی نظر آتی ہیں۔حبب بندہ لاہور ورنٹیل کالج میں تعلیم حاصل کرتا تھا۔تو حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے ساتھ رہتا تھا۔حضرت مفتی صاحب وصوت قریباً ہر ہفتہ کی شام کو لاہور سے روانہ ہو کہ رات کے بارہ بجے کے قریب ٹینشن الہ پر اتر کہ پیدل چل کر نماز تہجد کے وقت قادیان دارالامان میں پہنچ جایا کرتے اور صبح حضرت اقدس آپ کو اندر اپنے کمرہ میں بلا لیتے۔کیونکہ کئی دفعہ یہ عاجز بھی حضرت مفتی صاحب کے ہمراد اور