تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 621 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 621

۶۰۶ ایک بار کسی شخص کو آپ نے اور نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب نے محق سرزنش کے طور پر خفیف سی بدنی سزا دی میں پر حضرت اقدس مسیح موعود نے باہمی محبت اور ہمدردی کے متعلق ایسی اثر انگیز تقریر ی زمانی که ان دونوں بزرگوں نے اس شخص سے فوراً معافی مانگ لی اور ملکی عظیم کا اعلیٰ نمونہ پیش فرمایا۔حضرت اقدس کے عہد مبارک میں آپ کے قلم سے بعض علمی مضامین بعضی اختبارات سلسلہ میں شائع ہوئے اس سلسلہ میں احکم۔ار جولائی ۱۹۰۵ ء صفحہ ۵ کا مضمون خاص طور پر قابل ذکر ہے جو ضرورت امام کے موضوع پر تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام حبیب کبھی سفر کے لیے تشریف لے جاتے تو حضور کی حرم حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ رکھے میں سوار ہو تیں تو دوسرے غلام کے علاوہ آپ کو بھی ساتھ جانے کا حکم ملتا۔آپ رمنھ کے ساتھ ساتھ بطور محافظ بٹالہ اور مچھر واپس تک ساتھ رہا کرتے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ :۔" ۲۶ مئی ۱۹۰۸ ء کو میں لاہور نواب محمد علی خاں صاحب کی کو بھٹی پر تھا تو جیل روڈ پر تھی۔صبح کو حب زیرا دن چڑھا تو میں حضور کی آخری زیارت اور عیادت کے لیے گیا اس وقت حضور قلم دوات منگوائی اور کاغذ پر کچھ لکھنے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔اس وقت میں نے دل میں کہا۔الحمد للہ کیونکہ میں حضور کی تشویشناک حالت کی خبر سن کر بہت گبھرایا ہو ا تھا۔مگر حضور جب بیٹھ کر لکھنے لگے تو کا غذ پر بے قاعدہ چلا سکے اور وہ ٹیڑھی سی کشش تھی۔اس وقت مجھے یقین ہوا کہ حالت خطر ناک ہے مگر حضور نے مجھے پہچان لیا اور زور سے دبانے کے لیے ارشاد فرمایا یہ بالکل آخری وقت تھا اور ایک گھنٹے کے اندر اندر میری آنکھوں کے سامنے آپ کی روح ارجعی الی ربك راضية مرضية كے ذوق سے ہمیشہ کے لیے بہرہ اندوز ہو گئی۔انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللهُمَّ صَلَّ وَسَلِّمْ كَمَا تُحِبُّ وترضى حضرت بھائی جا شملہ سے ۱۹۳۵ء تک قادیان دارالامان میں قیام پذیر رہے اس کے بعد فسادات کے دوران پاکستان آگئے۔مگر مٹی ۱۹ ء میں پھر دیار محبوب میں تشریف لے گئے اور مع الحکم اور فروری ۱۹۳۵ دسته روایات حضرت چوہدری عبد الرحیم صاحب)