تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 620 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 620

۶۰۵ کے ساتھ سیکھوں بھجوا دیا۔مگروہ وہاں بھی پہنچے۔اور بمشکل میرا پنڈ چھوڑا۔حضرت اقدس نے جب سنا تو فرمایا: قادیان سے بڑھ کر امن کی کونسی جگہ ہے مولوی صاحب نے ایساکیوں کیا ؟ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے ترجمہ قرآن مجید مجھے پڑھایا۔اور حضرت خلیفہ اول نے علم حدیث صرفت مسخوطب وغیرہ کی پوری تعلیم دیتی " حضرت بھائی بھی فرمایا کرتے تھے جس پیار اور محبت سے انہوں نے میری تربیت فرمائی اس کی مثالیں دینا میں بہت خال ملیں گی جب میں پڑھتے پڑھتے تھک جاتا تو فرما نے عبدالرحیم لیٹ جاؤ۔اب نہیں پڑھتا ہوں تم سنتے جائے۔ششماہ سے شہر تک آپ کو سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السّلام کی بابر کت صحبت میں رہنے کا موقعہ ملا۔ازاں بعد آپ مدرس تعلیم الاسلام کے ٹیوٹر اور پھر مدرس مقرر ہوئے آپ ۱۹۳۴ء تک تعلیمی خدمات بجالاتے رہے۔اس کے دوران آپ کو حضرت مصلح موعود حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور خاندان حضرت مسیح موعود کے متعدد صاحبزادگان کے استاد ہونے کا شرف حاصل ہوا۔عرصہ تک حجتہ اللہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے بچوں کے اتالیق بھی رہے۔آپ ۳۱۳ اصحاب کبار میں سے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صنمیمہ انجام آنتظم صفحہ الہ میں آپ کا نام ہے پر درج فرمایا ہے۔آپ کی بعض خود نوشت روایات سے پتہ چلتا ہے کہ جب حضرت مولوی نور الدین رخلیفہ ابیع الاول) اور حضرت مولوی عبدالکریم منا بہت مبارک میں موجود نہ ہوتے تو حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام حافظ معین الدین صاحب یا آپ کو امام الصلواۃ بنا لیتے اور بعض اوقات خود امامت کے فرائض انجام دیتے اور آپ کو حضور کے پیچھے نمانہ پڑھنے کی سعادت نصیب ہو جاتی۔کے اخبار باور قادیان اور اکتویہ ، 190 ء مٹ راس مضمون کے اگلے حصہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ مبارک کی بہت سی پیاری باتیں درج ہیں جو قابل مطالعہ ہیں)