تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 615
۶۰۰ بظاہر سرگزشت اور واقعات میرے اسلام میں آنے کے یہ ہوئے۔جو پہلے پہل ہی احمدیت یا یوں کہیں کہ احمد مرسل یزدانی علیہ الصلواۃ والسلام کے ہاتھ پر اسلام لانے اور بیعت کرنے پر ایک وقت ہی دو لطف اپنے اندر لیے ہوئے تھے۔گو بیعت میں نے ۱۸۹۲ء میں جبکہ میں ابھی سکھوں کے لباس میں تھا۔اور بالکل قادیان آجانے کا موقعہ د مارچ ۱۸۹۵ ء کو بفضلہ میسر آیا۔لیکن ۱۹۴۲ میں بیعت کا شرت مجھے عطا ہونا اسی وقت ہی اسلام بنانے کی حقیقت کو اپنے اندر لیے ہوئے تھا۔اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی نور فراست کی بھی ایک اعلیٰ درجہ کی دلیل ہے۔کہ آپ مجھے اگر مسلمان خیال بلکہ یقین نہیں کر رہے تھے۔تو اس بیعت میں نہایت مزیدار لطف بجز اس کے اور کیا تھا۔میں اپنے حسن مولے کا نہایت ہی شکر گزار ہوں۔کہ اس نے مجھے ایسے آسمانی ماتھے پرہاتھ رکھنے کا موقع اس وقت دیا۔جس کے لیے آباد اعداد سے مسلمان کہلانے والے بہت کچھ متردد تھے۔اور شکوک وشبہات اور تعصبات میں پڑے ہوئے تھے۔یہی وہ خاص یزدانی کشش تھی جو کام کہ گئی۔ورنہ میں اور یہ فضل اور ایسا بے مثل احسان لربنا الحمد لربنا الحمد۔حب میں چومتی پر انٹری میں پڑھ کر تا تھا۔اس وقت رسوم بند بھی ہماری درسی کتاب تھی جس میں انبیاء علیم السلام کا ذکرکچھ منفر دیا ہوا تھا۔انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا حال جب میں نے پڑھا۔تو میرے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے۔یہ لوگ بڑے اچھے تھے۔میرے وقت میں اگر کوئی انسان ایسا ہو۔تو میں تو اس کو ضرور ہی مان لوں۔جس منان آتا نے مجھے ایسا دل بچپن میں دیا تھا۔مجھے اس پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ بالآخر مجھے چھوڑ نہیں دے گا اور احمدیت پر جو حقیقی اسلام کا آئینہ ہے میرا خاتمہ بالخیر کرتے ہوئے جنت میں ایک گھر بھی مجھے ضرور ہی عطا فرمائے گا۔رب عليك توكلت واليك انبت واليك ـير : اردو مڈل پاس ہو گیا۔وظیفہ سرکاری اللہ روپے ما مولر کا۔اور سپیشل کلاس میں لاہور پڑھنے کے کیسے ہم کو د مجھکو اور میرے بھائی کو بھیج دیا گیا۔لاہور ان دنوں ۱۸۹۱ ء میں ہر طرف ہی مذہبی چرچا رہتا تھا۔عیسائی بازاروں میں اس طرح اگر یہ اور سکھ الگ الگ اپنے پر چار کرتے ہوئے بکثرت دکھائی دیتے تھے۔ان وعظوں نے مذہب کی طرف بالکل ملال پیدا کر دیا۔اور طبیعت نے یہ فیصلہ کرلیا۔کہ میں مذہب میں ہیں رہی اچھا ہے لیکن مذکورہ کے آخر میں ہی میں رسالہ ملا میں ملتان بھرتی ہو گیا اور قریباً چھر باد کے بعد ہم سیالکوٹ میں آگئے۔یہاں سردار سندر سنگھ صاحب ساکن دھرم کوٹے بگه - رفیق اور شرم را از i