تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 569
۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی وفات پر آپ نے فیصلہ فرمایا کہ جماعت کی وحدت و اتحاد کے لیے آپ مولوی محمد علی صاحب کا نام انتخاب خلافت کے موقع پر پیش کر دیں گے مگر خدا کے ازلی نوشتے پورے ہوئے اور قبل اس کے کہ آپ دوستوں کو مولوی محمد علی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی تحریک فرماتے آپ کو دیکھتے ہی مولوی محمد احسن صاحب امر ہی مرحوم نے کہا کہ ہاتھ بڑھایئے اور بیعت لیجئے آپ کو بیعت کے الفاظ یا دنہیں تھے مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب آگے بڑھے اور کہا کہ لفظ مجھے یاد ہیں میں کہتا جاؤں گا آپ دہراتے جائیے اس پر مولوی محمد علی صاحب نے تقریر کرنا چاہی گر تمام احمدیوں نے بیک زبان کہا کہ ہم نہیں سننا چاہتے جس پر مولوی صاحب موصوف کو بیٹھ جانا پڑا اور جماعت احمدیہ آپ کے ذریعہ دوبارہ خلافت کے جھنڈے نے جمع ہو گئی۔حضور نے اپنی روح پر در تقریر میں یہ سب واقعات پوری شرح وبسط سے بتلانے کے بعد بڑے جلال کے ساتھ فرمایا۔میں اگر کہ دیتا کہ مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کر لی جائے تو سب لوگ مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کر لیتے گر خدا تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ یہ کام ان سے نہ لے بلکہ مجھ سے لے سو خدا تعالیٰ نے مجھ کو ہی کھڑا کیا اور وہ ناکام رہے یہ تیسری مثال ہے اس بات کی کہ مصلح موعود کے لیے خدا تعالیٰ نے متواتر نشان دکھائے اور اس کی انگلی بار بار اس طرف اٹھتی تھی کہ میں ہی و شخص ہوں جس سے خدا تعالیٰ یہ کام لینا چاہتا ہے " نیز فرمایا۔پھر میرے عمل نے بھی اس بات کو ثابت کر دیا۔آج مولوی محمد علی صاحب کی تغییر قرآن بھی موجود ہے اور میری بھی۔اُن کی تفسیر نہیں جلدوں میں ہے اور اس کے ۱۹۹۵ صفحات ہیں اور میری تغییر قرآن اب تک ۳۳۶۶ صفحاتک مکمل ہو چکی ہے اور ۱۳۵۴ صفحہ کی اب تغیر صغیر چھپی ہے اگر یہ تغیر کبیر مکمل ہو جائے تو میرا خیال ہے کہ وہ سات ہزار صفحہ کی کتاب ہو جائے گی اور مولوی صاحب کی اس کے مقابلہ میں صرف ہیں سو صفحہ کی کتاب ہو گی پھر اگر دوسری کتابیں دیکھی جائیں جیسے دعوت الا میبر و غیرہ ہیں اور ان کے صفحات بھی اس میں شامل کیے جائیں تو میری تفسیر کے غالباً میں ہزار سے زیادہ صفحے ہو جائیں گے اور مولوی صاحب کی کتابیں ان کے مقابلہ میں رکھی جائیں تو وہ بالکل پہنچے نظر آئیں گی۔پر مبلغی کو دیکھ والہ اعمال نے مجھے یورپ میں تبلیغ اسلام کی ایسی توفیق دی کہ شیخ هم می تاب لہ فوت ہو چکے ہیں۔