تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 548
۵۳۳ سید نا حضرت خلیفہ ایسی ثانی المصلح الموعود نے تفسیر صغیر کی فروخت اور آئندہ تغیر صغیر کی فروخت طباعت کا کام اداراة المصنفین ربوہ کے سپر د فر مایا۔یہ ادارہ نومبر دار کو معرض وجود میں آیا تھا۔اور اس کے قیام کی اعراض میں سے ایک اہم عرض یہ بھی تھی۔کہ وہ تفسیر صغیر کی اشاعت کا وسیع پیمانہ پر انتظام کرتا رہے۔چنانچہ ۱۹۵۷ء سے ۱۹۸۴ء تک تفسیر صغیر کی طباعت و اشاعت کا کام یہی ادارہ سر انجام دیتا رہا۔پہلا ایڈیشن جو منظر عام پہ آیا۔اتنا مقبول ہوا کہ ہاتھوں ہاتھہ پک گیا اور صرف دو ہزار کی تعداد میں شائع ہونے کی وجہ سے جماعتوں کی بھاری تعداد بے پناہ شوق و زوق کے باوجود اسے جلسہ سالانہ کے موقع پہ حاصل نہ کر سکی۔احباب کے اشتیاق کے پیش نظر ۱۹۵۸ء میں تین بار ایک ایک ہزار کی تعداد میں تغیر صغیر کو چھپوایا گیا۔لیکن جلد ہی یہ کتاب نایاب ہو گئی۔اور اور مارچ ۱۹۶۶ء میں اس کا پانچواں ایڈیشن عکسی اعلیٰ کتابت اور نفیس طباعت کے ساتھ چھپوایا گیا جس کی تفصیل آئندہ صفحات میں آرہی ہے سید نا حضرت مصلح موعود دید و فعالیٰ بنصرہ العزیز سیدناحضرت خلیفہ ربیع الثانی کی طر بے کارکنان کو نے آغا نے خلافت میں اللہ تعالیٰ کے تفر صفیہ کے انعامات اور اظہار خوشنودی حضور یہ دعائی تھی۔کر اپنے فضل سے تو میرے ہم سفر پیدا کہ اس دیار میں اسے جان میں غریب ہوں میں خدا تعالیٰ نے اپنے پیار سے بندہ محمود المصلح الموعود کی یہ دعا اس شان سے قبول فرمائی۔کہ حضور کا پورا عہد خلافت اس کا منہ بولتا نشان بن گیا۔تغییر صغیر کی تیاری - کتابت اور طباعت کے کام کو آپ کے منشاء کے مطابق سر انجام دینے کے لیے ایسے مخلص خدام عطا فرمائے۔جنہوں نے دن رات ایک کر کے انتھک محنت اور جانفشانی ایسا ایک مظاہرہ کیا کہ وہ کام جس کے مکمل کرنے کے لیے سالوں درکار تھے۔تین ماہ میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔اور اپنے پیارے آقا کی دعاؤں اور خوشنوری پایہ اور کو حاصل کیا۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے کارکنان تغیر صغیر کے لیے اپنی خوشنودی کا اظہار اس رنگ میں فرمایا کہ جلسہ سالانہ ۱۹۵۷ ء کے دوسرے روز اپنی تقریر کے شروع کرنے سے قبل کارکنان کو سٹیج پر بلا کر اپنے دست مبارک سے انعامات کی تھیلیاں عطا فرمائیں۔مین خوش نصیب اصحاب کو یہ فخر حاصل ہوا