تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 538
۵۲۳ حاصل را بیان فرماتے ہیں یہ الحمد للہ کہ ۲۵ اگست کو ترجمہ قرآن مجد ختم ہو گیا اسی روز جب ترجمہ ختم ہونے کے بعد نماز عصر کے لیے بیت الذکر میں حضور آئے تو حضور کے چہرہ پر خوشی کے آثار نمایاں تھے اور خوشی کے جذبہ کے ساتھ فرمایا ڈاکٹر صاحب ! آج ترجمہ ختم ہو گیا ہے۔اس پر خاکسار نے کہا الحمد للہ مبارک صد مبارک اللہ تعالیٰ حضور کی عمر میں برکت دے۔اس وقت تمام اہلِ قافلہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور اکثر نے کہا کہ آج مٹھائی تقسیم ہونی چاہیئے۔جس پر چندہ جمع کیا گیا اور جب رقم جمع ہوئی جس میں حضور کے اہلِ بیت کا بھی حصہ تھا تو ایک کمرہ صدقہ ذبح کر دیا گیا یہ تکمیل تجمہ کا ابتدائی مرحلہ جو علالت طبع کے باوجود تین ماہ کی نہایت مختصر مدت میں طے ہوا آسمانی قوت و طاقت اور اپنی نفرت کا واضح نشان تھا جس کی عظمت واہمیت حضرت مصلح موعود کے حسب ذیل دو نوٹوں سے بخوبی نمایاں ہوتی ہے جو حضور نے انہی دنوں اختبار الفضل کو ارسال فرمائے اور جن سے اس کشن اور صبر نہ ماعلمی جہاد کی مشکلات پر بھی روشنی پڑتی ہے۔فرمایا :- پہلا نوٹ برادران السلام علیکم ورحمته لله و بر کا شد جیسا کہ آپ کو معلوم ہے مری میں آکر شروع میں میری طبیعت کچھ خراب رہی پھر طبیعت اچھی ہوگئی اور قرآن شریعت کے ترجمہ اور نوٹوں کا کام شروع کر دیا قریباً ایک ماہ تک طبیعت اچھی رہی اور خدا کے فضل سے بہت سا کام ہو گیا اس کے بعد کوئی ڈیڑھ ہفتہ ہوا ایک دن شدید دورہ ہوا پھر اس کے بعد ایک دانت میں درد شروع ہوگئی جو نکلوانا پڑا دورہ کے بعد پانچ سات دن ایسا صنف رہا کہ قطعاً کسی قسم کا کام کرنے کے قابل نہیں رہا مگر جوں جوں دانت کی تکلیف کم ہوتی گئی اور زخم مندمل ہوتا گیا طبیعت پھر سکون پر آگئی چنا نچہ پانچ چھ دن کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے پھر بڑے زور سے کام ہونے لگا۔آن اللہ تعالیٰ کے فضل سے سورۃ اعراف کا ترجمہ ختم ہوگیا ہے سورۃ فاتحہ سے سورۃ العام تک کا ترجمہ پہلے سے ہوا ہو ا تھا اب یہاں سورۃ انعام کے کچھ حصہ کا اور سورۃ مائدہ کے کچھ حصہ کا اور سورۃ سه العقل الرستمبر ١٩٥٢ ء صفحہ ، : سہ حضور نے ترجمہ کا یہ حصہ ۱۹۳۸ء میں کیا تھا رالفضل ۳۱ رمئی ۶۱۹۵۷ (۲۰)