تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 40
کر چکے ہیں کہ جماعت کا ایک خلیفہ ہونا چاہیئے اس فیصلہ پر تم قائم ہیں اور تا زندگی قائم رہیں گے اور خلیفہ کا انتخاب ضرور کرا کے چھوڑیں گے۔سکول کے درجنوں طالب علم پیدل اور سائیکلوں پر چڑھ کے بٹالہ کی مسڑک پر چلے گئے اور ہر نو دار و مہمان کو دکھا کہ اس سے درخواست کی کہ اگر آپ اس سے متفق ہیں تو اس پر دستخط کر دیں۔جماعت احمدیہ میں خلافت کی بنیاد کا وہ پہلا دن تھا اور اس بنیاد کی اینٹی رکھنے والے سکول کے لڑکے تھے۔مولوی صدر دین صاحب اس وقت ہیڈ ماسٹر تھے ان کو پتہ لگا تو وہ بھی بٹالہ کی سڑک پر چلے گئے وہاں انہوں نے دیکھا کہ سکول کا ایک لڑکا نو دار و مہمانوں کو وہ مضمون پڑھوا کر دستخط کردا رہا ہے انہوں نے وہ کا غذاس سے چھین کر پھاڑ دیا اور کہا چلے جاؤ وہ لڑ کا مومن تھا اس نے کہا مولوی صاحب ! آپ ہیڈ ماسٹر ہیں اور مجھے مار بھی سکتے مگر یہ مذہبی سوال ہے۔میں اپنے عقیدت کو آپ کی خاطر نہیں چھوڑ سکتا۔فوراً جھک کروہ کا غذ اٹھایا اور اسی وقت پنسل سے اس کی نقل کرنی شروع کر دی اور مولوی صاحب کے سامنے ہی دوسرے مہمانوں سے اس پر دستخط کمر دانے شروع کر دیئے۔اس پر ۴۲ سال گزر گئے ہیں اس وقت جوان تھا اور اب ۶۸ سال کی عمر کا ہوں اور فالج کی بیماری کا شکار ہوں اس وقت آپ لوگوں کی گردنیں پیغامیوں کے ہاتھ میں تھیں اور خزانہ میں صرف ۱۸ آنے کے پیسے تھے میں نے خالی خزانہ کو لے کر احمدیت کی کر خاطر ان لوگوں سے لڑائی کی جو کہ اس وقت جماعت کے حاکم تھے اور جن کے پاس روپیہ تھا لیکن خدا تعالیٰ نے میری مدد کی اور جماعت کے نوجوانوں کو خدمت کرنے کی توفیق دی۔ہم کمزور جیت گئے اور طاقت ور دشمن ہار گیا آج ہم ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور جن لوگوں کو ایک تفسیر پر ناز تھا اُنکے مقابلہ میں اتنی بڑی تفسیر ہمارے پاس ہے کہ ان کی تغییر اس کا تیسرا حصہ بھی نہیں۔جو ایک انگریزی ترجمہ پیش کرتے تھے اس کے مقابلہ میں ہم چھ زبانوں کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں لیکن ناشکری کا برا حال ہو کہ وہی شخص جس کو پیغا می سترا بہتر اقرار دے کر معزول کرنے کا فتویٰ دیتے تھے اور جس کے آگے اور دائیں اور بائیں لڑ کرئیں نے سے مراد حضرت خلیفہ اول