تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 39
۳۹ پیشگوئی کے مصداق ناصر احمد کے پیچھے نماز پڑھتی ناجائز ہے۔مگر مولوی صدر دین کے پڑھنی جائز ہے۔پس خود ہی سمجھ لو کہ اس فتنہ کے پیچھے کون لوگ ہیں ؟ اور آیا یہ فتنہ میرے خلاف ہے یا مسیح موعود کے خلاف مسیح موعود فوت ہو چکے ہیں جب وہ زندہ تھے تب بھی ان کو تم پر کوئی اختیار نہیں تھا۔قرآن مجید میں خدائفالے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق بھی فرمانا ہے کہ تو داروغہ نہیں۔اب بھی تم آزاد ہو۔چاہو تو لاکھوں کی تعداد میں مرتد ہو جاؤ خدا تعالی سٹی کے نیچے دبلے ہوئے مسیح موعود کی پھر بھی مدد کرے گا اور ان لوگوں کو جو آپ کے خادموں کی طرف منسوب ہو کہ آپ کے مشن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ذلیل وخوار کا پہلا اختیار ہے خواروی اولیا اوران کی وحی کو قبول کرد باز اور منافقوں کو قبول کرو۔میں اس اختیار کو تم سے نہیں چھین سکتا۔مگر خدا کی تلوار کو بھی اس سے ہا تھ سے نہیں چھین سکتا ہے ۱۳۹۱ جولائی استاد کو ملبس خدام الاحمدیہ کراچی کے پہلے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر حضرت سوم السلع ذیل گیا۔مصلح موعود کا حسب ذیل روح پر در پیغام پڑھ کر سنایاگیا۔خیبر لاج مری ۲۴/۷/۵۶ خدام الاحمدیہ کراچی عزیزان ! السلام عليكم ورحمة الله و برکانه آپ کے افسران نے خدام الاحمدیہ کراچی کے جلسہ کے لئے پیغام مانگا ہے۔میں اس کے سوا پیغام کیا دے سکتا ہوں کہ 19ء میں جب میں خلیفہ ہوا اور جب میری صرف ۲۶ سال کی عمر بھی خدام الاحمدیہ کی بنیاد ابھی نہیں پڑی تھی۔مگر ہر احمدی نوجوان اپنے آپ کو خادم احمدیت سمجھتا تھا مجھے یاد ہے کہ جس دن انتخاب خلافت ہونا تھا مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے ایک ٹریکٹ شائع ہوا کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہیئے۔صدر انجمن احمدیہ ہی حاکم ہونی چاہیئے۔اس وقت چند نوجوانوں نے مل کر ایک مضمون لکھا اور اس کی دوستی کا پہیاں کیں۔اس کا مضمون یہ تھا کہ ہم سب احمد می حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت فیصلہ ست روزنامه الفضل ربوه ۲۰ جولائی ۱۹۵۶ء صفحه ۶٫۵