تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 534 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 534

ضروری کام ہیں۔ہو کرنے کے ہیں۔مگران کی طرف توجہ نہیں۔مثلاً صحیح بخاری کے ترجمہ اور اس کی شرح کا کام بھی نہایت ضرور ی اور اہم ہے ، اگر ہم نے نہ کیا۔تو ان لوگوں سے کیا توقع ہوسکتی ہے۔جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہنے کا موقعہ نہیں ملا۔اور جو آپ کے فیضان سے برا و را است مستفیض نہیں ہوئے۔غیروں کے تراجم اور خواشنی رہ جائیں گے اور جو اناپ شاپ لکھا ہوا ہو گا۔اس پر وار و مدار ہو گا۔اور پھر بعد از وقت اعتراضوں کو دیکھ کر ادھر اُدھر کے جواب کی سوجھے گی۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے سپر د سلسلہ کے بہت سے اہم کام تھے۔تاہم آپ نے دیگر کاموں کی سر انجام دہی کے ساتھ ساتھ ۱۹۶۲ ء تک مسند سبخاری کے انہیں پاروں کی شرح د تر جمہ مکمل کر لیا اس سال آپ بیمار ہوئے اور آپ اس قابل نہ رہے۔کہ مزید کام کر سکیں۔چنانچہ آپ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں پیغام بھجوایا کہ وہ حضور کی ہدایت کے مطابق بخاری کی شرح کا کام کرتے رہے ہیں۔اب تک جو کام ہو چکا ہے۔اس کو حضور کسی کے سپرد فرمائیں۔تاکہ اس پر نظر ثانی ہو کر اور حوالہ جات کی تصیح ہوکر شائع ہو سکے۔اور باقی کام بھی مکمل کیا جاسکے۔چنانچہ سیدنا حضرت خلیفة المسیح الثانی نے ابوالمنیر مولوی نور الحق صاب مینجنگ ڈائریکٹر ادارۃ المصنفین کو قصر خلافت میں یا د فرمایا ، اور ارشاد فرمایا شرح بخاری کا کہ جس قدر مستوده تیار ہو چکا ہے اس کو محفوظ کر لیا جائے۔اور اس کے طبع کرنے کا انتظام کیا جائے۔اور شرح بخاری کا کام مکمل کیا جائے۔چنانچہ مولانا ابوالمنیر صاحب نے نہایت محنت تے بخاری کی شرح کو پندرہ اجزاء تک طبع کروا دیا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ کے تیار کردہ مضمون سے چارجز طبع ہونے باقی ہیں اور دفتر اداراۃ المصنفین میں محفوظ ہیں۔خدا کرے کہ وہ جلد شائع ہو کہ احباب کے علم میں اب صرف اضافہ کا موجب ہوں۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ۱۹۶۹ ء میں سیدنا تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت می رود علی اسلام کی قرآن مجید کا بیان فرموده موعود کی تغیر کو جمع کرنے کا ارشاد مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب کو فرمایا۔چنانچہ حضور کے اس ارشاد کی تعمیل میں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے تغییر قرآن مجید کو جمع کیا گیا۔اس کے بعد اس بات کی پوری قتل کر لی گئی کہ کوئی حوالہ رہ تونہیں گی۔پھر اس کی اشاعت کا کام شروع ہوا۔چونکہ کوشش یہ کی گئی تھی کہ