تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 527 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 527

۵۱۲ کے لیے روانہ ہوئے۔جس وقت محترم صاحبزادہ صاحب پوہلا مہاراں سے ڈیڑھ میل دور رہ گئے۔تو پوہلا مہاراں میں آمد | سب سے پہلے نہر کی پٹڑی پر دو نو امارتوں کے نمائندگان نے آپ کا استقبال کیا یہ سب لوگ گھوڑوں پر سوار تھے۔اور موڑ کے ساتھ ساتھ گاؤں تک گئے گاؤں سے باہر اس امارات کے تمام دوست اپنے امیر چو ہدری غلام محمد صاحب جو حضرت مسیح موعود کے رفیقوں میں سے ہیں۔کچھ مر کر دگی میں استقبال کے لیے جمع تھے۔جنہوں نے نہایت پرجوش نعروں سے آپ کا استقبال کیا۔کچھ عرصہ چوہدری غلام محمد صاحب کے ہاں ٹھہرنے کے بعد دوپہر کا کھانا حاجی اللہ بخش صاحب کے ھاں منگوے میں تناول فرمایا اور وہاں سے گھٹیالیاں تشریف لے گئے۔ہائی سکول کے وسیع میدان میں نماز جمعہ کا انتظام تھا۔مستورات کے لیے پردہ کا اور آواز پہنچانے کے لیے لاؤڈ سپیکر کا تسلی بخش انتظام تھا یہاں کئی ہزار کا مجمع تھا۔جس میں غیر احمدی نثر ناء بھی تھے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول گھٹیا بیاں کا تمام عملہ اور طلباء اپنے ہیڈ ماسٹر چوہدری غلام حید ر صاحب بی۔اے۔بی ٹی کی سرکردگی میں استقبال کے لیے موجود تھے۔جنہوں نے پر بجوش نعرے لگائے اور خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔اس کے بعد سب مجمع استقبال میں شریک ہوا۔نماز جمعه محترم صاحبزادہ صاحب نے پڑھائی۔اور ایک لطیف خطبہ ارشاد فرمایا نما نہ عصر کے بعد سکول کے مینجر کرم بابو قاسم الدین صاحب نے آپ کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا۔یہیں کا نواب صاحبزادہ صاحب نے دیا۔اور کارکنان سکول کو زریں ہدایات سے نوازا اور سکول کو ہر لحاظ سے ترقی کی اعلیٰ منازل پہنچانے کی تلقین کی صاحبزادہ صاحب کی تقریرہ سے متاثر ہو کہ بہت سے دوستوں نے سکول کی امداد کے وعدے ان تشریا ت کے بعد محترم صاحبزادہ صاحب دات زید کا تشریف لے گئے۔گاؤں سے آدھ میل باہر نہ۔اس امارات کے احباب اپنے امیر چو ہدری بشیر احمد صاحب کی سرکردگی میں اهلا و سهلا دمر حيا - کہنے کے لیے بیتاب تھے۔صاحبزادہ صاحب کے موٹر سے اترتے ہی تمام فضاء نعروں سے گونج اٹھی۔سارا مجمع آپ کی معیت میں نعرے لگا تا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنار گاتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظمیں پڑھنا پیدل ایک جلوس کی صورت میں گاؤں میں آیا۔چوہدری بشیر احمد صاحب امیر جماعت نے عصرانہ پیش