تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 509 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 509

۴۹۴ خاطر خواہ انتظام ہے۔کہ جس کے ذریعہ سے ہم اللہ تعالی کو پا سکیں۔اور تمام دنیا کو دین حق کی دعوت دے سکیں اور بتلا سکیں کہ یہی وہ مذہب ہے جو سب سے زیادہ مکمل ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہی معزز ترین بنی ہیں اور قرآن مجید ہی پاکیزہ ترین اور مکمل ترین سند میں کتاب ہے۔اور پھر تعلیم کے علاوہ اس سنگ میں ہماری تربیت کی جاتی ہے کہ جس سے ہم دین حق کے صحیح خادم بن سکیں اور پھر نہ صرف علم سے بجا دین کی خدمت کر سکیں بلکہ ہر قسم کی جانی ومالی قربانیوں کو بھی دین کی خاطر پیش کرنے کے قابل بن سکیں بالآخر ہم آپ سے دعا کے ملتجی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مقصد میں کامیاب کرے کیونکہ اتنے بڑے مقصد کو تجو نہایت ہی نیک اور پاکیزہ ہے۔حاصل کرنا از حد مشکل ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ ہمیں رہنمائی کے طور پر کوئی نہ کوئی نصیحت فرمائیں گے کہ جو ہمارے مقصد کے حاصل کرنے میں محمد ثابت ہو سکے۔بالاخر دعا ہے کہ اللہ تعالی آن مکرم کو تمام عزیز ان سمیت اپنی پناہ میں رکھے لمبی عمر عطا فرمائے دنیا دی و اخر دی زیات رہم ہیں طلبائے انڈونیشیا ہے عطا فرمائے۔وکالت تبشیر اور انڈو نیشی طلبہ سے تہنیت ناموں کے جواب میں الحاج ڈاکٹر محمد رشیدی سفیر انڈو نیشیا نے قریبا پچیس منٹ تک انڈو نیشی زبان میں تقریر فرمائی جس کا ترجمہ انڈینشیا سے آئے ہوئے مبلغ کریم ملک عزیز احمد صاحب نے حاضرین کو سُنایا۔سفیر محترم نے نہایت موزوں الفاظ میں سید نا حضرت خلیفہ المیہ الثانی ، وکالت التبشیر اور جماعت کے تمام دوسرے افراد کا شکریہ ادا کیا اور ربوہ کے دورہ کے متعلق اپنے نہایت اچھے اور اعلی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ان خدمات کو سراہا جو جماعت احمد به دین حق کی تبلیغ واشاعت اور مسلمانوں کی بہبود کے لیے سرانجام دے رہی ہے۔آپ کی تقریب کے ترجمہ کے بعد سید نا حضرت مصلح موعود نے انڈونیشیا سے آئے ہو معزز مہمان کا جو اسلام کے گہرے مضبوط اور مقدس تعلق کی وجہ سے ہم سب کے لیے قابل عزت و تکریم کے قابل تھے۔ربوہ میں ان کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ جماعت احمدیہ کے دلوں میں انڈونیشیا کے مسلمان بھائیوں کے لیے ہمیشہ محبت اور یگانگت سے گہرے اور نیک جذبات کار فرما ر ہیں گے۔سواچھے بجے تک یہ تقریب جاری رہی جو اپنے تاثرات اور کوائف کے اعتبار سے سفیر محترم کے دورہ ربوہ کی باقی تقریبات سے اہم اور موثر تھی۔تقریب کے خاتمہ به روزنامه اخبار" الفضل ربوہ ۲۷ ستمبر ١٩٥٧ ء مٹ