تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 508
کرتے ہیں کہ آپ اپنے ہم وطنوں تک ہمارا محبت بھر اسلام اور ہماری مخلصانہ اور نیک تمنا میں پہنچا کر ہمیں مزید شکریہ کا موقع دیں لیے صاحبزادہ صاحب کے بعد ربوہ میں مقیم انڈونیشی طلبہ کی طرف سے حسب ذیل یہ ایڈریس پیش کیا گیا۔عالی جناب محترم سفیر صاحب حکومت انڈونیشیار السلام علیکم ورحمته الله وایر کاندا ہم انڈو نیشین طلباء ہجور بوہ کے مختلف اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں خوش آمدید عرض کرتے ہیں۔اس طرح آپ کی اہلیہ محترمہ صاحبزادے اور صاحبزادی اور عملہ کی خدمت میں بھی خوش آمدید عرض کرتے ہیں۔آپ کی تشریف آوری ہم انڈونیشین طلباء کے لیے انتہائی خوشی و مسرت کا باعث ہے۔بلکہ ہم اسے عین فخر اور اپنی خوش قسمتی تصور کرتے ہیں۔اور آں جناب کی ملاقات اس وجہ سے زیادہ خوشی کا موجب ہے کہ آپ کسی ایک رشتہ دار با خاندان یا گاؤں یا شہر کے نمائندہ نہیں بلکہ ایک بہت بڑے ملک کے نمائندہ ہیں۔جو تین ہزار ہزا ر پر مشتمل ہے۔اور جس کی آباد می سات کروڑ کے لگ بھگ ہے۔اس وجہ سے ہمارا یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ آپ کا آنا ہمارے لیے اور قوم انڈونیشیاء کے لیے باعث فخر ہے۔کیونکہ اس ریوہ شہر میں ہوا بھی ابھی آباد ہوا ہے اگر چہ تمام اکنان عالم سے ہر قوم دملک کے افراد آتے رہے ہیں لیکن سفیروں میں سب سے پہلے آپ نے تشریف لا کہ اس شہر کی عزت افزائی فرمائی ہے۔عالیجاہ شہر یہ بوہ بجو ابھی آباد ہو رہا ہے اور جہاں کی آب و ہوا کو برداشت کرنا بھی آسان بات نہیں اور دوسرے شہروں کی طرح اس میں کوئی خوشی اور تفریح کے سامان نہیں ہیں۔طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی شے ہے کہ میں سے نوجوانان انڈونیشیا کے دلوں میں یہاں آنے کا خیال پیدا ہوا۔کر منا!! ہم سے پہلے بھی بیسیوں انڈونیشین طلباء اس جگہ اور اس سے پہلے قادیان میں کمیل علم کر کے مختلف جگہوں اور ملکوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں جو شے ہمارے قلوب کے لیے موجب کشمش بنی ہے یہ ہے کہ اس جگہ نہ صرت علوم دنیا دی کو حاصل کرنے کا ہمارے لیے انتظام ہے کہ جس سے ہم دنیا دی ترقیات حاصل کر کے قوم کی خدمت کے قابل ہو سکتے ہیں جبکہ اس سے بڑھ کر یہاں ہمارے لیے خصوصی دینی تعلیم کا بھی به روزنامه الفضل ربوه ۲۹ ستمبر ۱۹۵۷ء صفحه ۵٫۴