تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 501
۴۸۶ اعلیٰ اول حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب اور ناظر علی شانی میاں غلام محمد صاحب اختر نے دکھلائے سفیر محترم کی خدمت میں ہر دفتر اور شعبہ کے متعلق ضروری تفصیلات ہم پہنچائیں۔بیر محترم جماعت احمدیہ کے دفاتر کو دیکھ کر از حد مسرور ہوئے آپ نے بعض شعبوں کے متعلق خود بھی دریافت فرمایا۔چنانچہ ان کو معلومات بہم پہنچائی گئیں۔آپ پہلے صدر انجمن حمدیہ کے بعد انواں تحریک جدید کے دفاتر میں تشریف لے گئے۔اور بیرونی تبلیغ کے مختلف شعبوں میں خاص وسپی کا اظہار فرمایا۔و بجے صبح اہل ربوہ نے پروگرام کے تحت لجنہ اماء اللہ کے ہال میں اپنے معزز سمان کی دمت میں تہنیت نامہ پیش کرنے کی غرض سے مجلس استقبالیہ منعقد کی۔احباب جوق در جوق اس میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔جو اس امر کا آئینہ دار تھا کہ ربوہ کے رہنے والوں کو ایک اسلامی مملکت کے معزز سفیر کی تشریف آوری سے کس قدر خوشی اور مسرت ہے۔لجنہ اماء اللہ کے ہال کے اندر کوئی چار سو سے زائد کرسیوں کا انتظام تھا۔جس کے لیے ربوہ کے چیدہ شہریوں اور بیر ونجات کے معزز احباب کے لیے باقاعدہ دعوت نامے جاری کیے گئے تھے۔کرسیوں کے علاوہ ہال کے باہر کی طرف باقی جگہ کے لیے کوئی پابندی نہیں تھی۔اور ہر شخص وہاں پہنچ کر اپنے معزز مہمان کے استقبال میں شریک ہو سکتا تھا۔ہال کے اندر سٹیج اور دوسرا انتظام نظارت امور عامہ کی نگرانی میں تھا جسے نظارت کے کارکنوں نے نہایت خوش سلیقی سے سر انجام دیا۔وہ جگہ ابھی چند منٹ ہوئے تھے کہ ہال کے عقبی دروازہ سے کریم مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر کی معیت میں سفیر محترم سیٹھ پر تشریف لائے۔جہاں ان کی خدمت میں لو کل جنرل پریذیڈنٹ جناب مولوی محمد صدیق صاحب نے اہالیان ربوہ کی طرف سے ایڈریس پڑھا۔اور پھر ایک نہایت خوبصورت نقرئی کشتی میں سفیر محترم کی خدمت میں پیش کیا۔اس تقریب کی صدارت مرزا عبد الحق صاحب پراونشل امیر نے فرمائی۔ایڈریس پیش کرنے سے قبل انہیں شام سے آئے ہوئے احمدی نوجوان السید سلیم الجانبی صاحب نے نہایت خوش الحانی سے قرآن کریم کی تلاوت کی اور آپ کے بعد مکرم مافظ عزیز الر حمن صاحب منگلا نے عربی زبان میں لکھا ہوا خیر مقدمی قصیدہ پیش کیا۔اہل ربوہ کی طرف سے حسب ذیل ایڈریس پیش کیا گیا۔فضیلت تاب! اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا نہ۔