تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 488
طرح جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں تحریک جدید کے ماتحت وقف کرتے ہیں وہ اپنی زندگیاں براہ راست میرے سامنے وقف کریں تا کہ میں ان سے ایسے طریق پر کام لوں کہ وہ سلمانوں کو تعلیم دینے کا کام کر سکیں۔وہ مجھ سے ہرا نہیں لیتے جائیں اور اس ملک میں کام کرتے جائیں۔ہمارا ملک آبادی کے لحاظ سے ویران نہیں ہے لیکن روحانیت کے لحاظ سے بہت دلیران ہو چکا ہے اور آج بھی اس میں چشتیوں کی ضرورت ہے۔سہر وردیوں کی ضرورت ہے اور نقشبندیوں کی ضرورت ہے۔اگر یہ لوگ آگے نہ آئے اور حضرت معین الدین صاحب چشتی حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی اور حضرت فرید الدین صاحب شکر گنجے جیسے لوگ پیدا نہ ہوئے تو یہ ملک روحانیت کے لحاظ سے اور بھی ویران ہو جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی زیادہ دیران ہو جائے گا جتنا مکہ مکرمہ کسی زمانہ میں آبادی کے لحاظ سے ویران تھا۔پس میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان بہت کریں اور اپنی زندگیاں اس مقصد کے لیے وقف کریں۔وہ صدر انجمن احمدیہ یا تحریک جدید کے ملازم نہ ہوں بلکہ اپنے گزارہ کے لیے وہ طریق اختیارہ کریں جو میں انہیں بتاؤنگا۔اور اس طرح آہستہ آہستہ دنیا میں نئی آبادیاں قائم کریں۔اور طریق آبادی کا یہ ہوگا کہ وہ حقیقی طور پر تو نہیں ہاں معنوی طور پر ربوہ اور قادیان کی محبت اپنے دل سے نکال دیں اور باہر جا کہ نئے رہوے اور نئے قادیان بسائیں ابھی اس ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں میلوں میل تک کوئی بڑا قصبہ نہیں وہ جاکر کسی ایسی جگہ بیٹھ جائیں اور حسب ہدایت وہاں تبلیغ بھی کریں اور لوگوں کو تعلیم بھی دیں۔لوگوں کو قرآن کریم اور حدیث پڑھائیں۔اور اپنے شاگر تیار کریں جو آگے اور جگہوں پر پھیل جائیں۔اس طرح سارے ملک میں وہ نہ مانہ دوبارہ آ جائے گا جو پرانے صوفیاء کے زمانہ میں تھا۔دیکھو ہمت والے لوگوں نے پچھلے زمانہ میں بھی کوئی کمی نہیں کی۔یہ دیو بند جو ہے یہ ایسے ہی لوگوں کا قائم کیا ہوا ہے۔مولانامحمد قاسم صاحب نانو نومی نے حضرت سید احمد صاحب بریلوی کی ہدایت کے ما سخت یہاں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔اور آج سارا مہند وستان ان کے علم سے منور ہو رہا ہے حالانکہ وہ زمانہ حضرت معین الدین صاحب چشتی کے زمانہ سے کئی سو سال بعد کا تھا۔لیکن پھر بھی روحانی لحاظ سے وہ اس سے کم نہیں تھا جب کہ ان کے زمانہ میں اسلام ہندوستان میں ایک مسافر کی شکل میں تھا۔اس زمانہ میں بھی وہ ہند دوستان میں ایک مسافر کی شکل میں ہی تھا۔حضرت سید احمد صاحب بریلوی نے اپنے شاگردوں کو ملک کے مختلف حصوں میں بھجوا با جن میں ایک ندوہ کی طرف بھی آیا۔پھر