تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 471 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 471

نے ۱۶۰۰ روپے تنخواہ دی ہے حالانکہ ہم یہاں پرنسپل کو ۵۰۰ روپے دیتے ہیں بہر حال وہاں پر جو ترقی ہو گی اُس کے ذریعہ جماعت کی حالت پھر مضبوط ہوگی۔چنانچہ جب سیرالیون میں ایک پریس لگانے کی تجہ بیہ ہوئی تو جیسا کہ میں ایک خطبہ میں بیان کر چکا ہوں وہاں ایک دوست نے جو نیا نیا احمدی ہوا تھا ایک ہزار پونڈ چندہ دیا اور ایک اور آیا اُس نے پندرہ سو پونڈ دیا اور پندرہ سو پونڈ کے منے یہ ہیں کہ گویا اس نے بائیں ہزار روپیہ بطور چندہ دیا اور تین چار مہینہ کے اندر اندر پچیس سو پونڈ تک جمع ہو گیا گویا چند ماہ کے اندر اندر جماعت نے ۳۳ ہزار روپیہ دیا۔سیرالیون کی جماعت ابھی بہت تھوڑی ہے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ یہ جماعت بھی بڑھے گی اور ترقی کرے گی۔مگر اس وقت تک یہ بوجھ میں ہی اٹھانا پڑھے گا وہاں کا ایک لڑکا بھی یہاں آیا ہوا ہے۔ہم کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد جماعت کا مبلغ بن سکے اُس کی تعلیم کا بوجھ بھی ہم برداشت کر رہے ہیں۔اسی طرح جو مبلغ وہاں جاتے ہیں اُن کے کرائے وغیرہ بھی ہمیں ادا کرنے پڑتے ہیں۔اللہ کا فضل ہے کہ ابھی ان لوگوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا نہیں ہوا کہ پاکستانی ہم پر حکومت کر رہے ہیں۔صرف ایک دفعہ نائیجیریا سے یہ آواز آئی تھی میں نے انہیں کہا کہ اگر تمہیں یہ بات نا پسند ہے تو میں سارے پاکستانی مبلغین واپس بلا لیتا ہوں میری اس دھمکی کے بعد فوراً ان کی مجلس شور کی ہوئی۔اور اُس نے فیصلہ کیا کہ ہم اس شخص کے سخت خلاف ہیں جس نے یہ بات کہی ہے۔ہمارا امیر پاکستانی مبلغ ہی مقرر کیا جائے ہم اس کے پیچھے چلیں گے۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اگر ان میں یہ روح قائم رہی بلکہ ترقی کرتی ر ہی تو شائد اس ملک کے چندے ہمارے ملک سے بھی بڑھ جائیں۔لیکن ابھی ان ملکوں کی موجودہ آبادی کے لحاظ سے ان کے چند سے کم ہیں۔جیسا کہ نہیں نے بتایا ہے اگر گولڈ کوسٹ نائیجیریا سیرالیون اور لائیبر یا ملایا جائے تو ان کی دست پاکستان سے نہیں گئے ہے۔لیکن آبادی تھوڑی ہے صرف تین کروڑ کے قریب ہے زیادہ تہ جنگلات ہی ہیں۔پھر الیٹ افریقہ میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت چھیل رہی ہے اس کا علاقہ بھی پاکستان سے دس پندرہ گناہ زیادہ ہے لیکن آبادی تھوڑی ہے یعنی تین چار کروڑ کے قریب ہے۔پس ان علاقوں میں احمدیت کے بڑھنے سے جماعت کی آمد پر اثر پڑے گا۔لیکن ابھی نہیں مصلحتا اور ان کے ایمان کی تقویت کے لیے ان کی آمدہ انہیں پچہ پا کرنی پڑے گی اور کہنا پڑے گا کہ مبلغ ہم بھیجیں گے خرپا تم دیا کرو۔اس !