تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 470 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 470

۴۵۵ کا اثر بڑھ رہا ہے۔اور جوں جوں وہ تک آزاد ہو تے جائیں گے خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کی تعداد بھی پڑھتی جائے گی۔یہاں یہ ہوتا ہے کہ ڈپٹی کٹر بھی ہمارے ہاں آجائے تو وہ ڈرتا ہے کہ ملک والے کیا کہیں گے۔لیکن وہاں یہ حالت ہے کہ ہماری بہت الذکر کے افتتاح کے موقع پر خود وزیر اعظم جو عیسائی تھا آیا۔اور اُس نے کہا۔آپ لوگ جو کام اس ملک میں کر رہے ہیں وہ بے نظیر ہے ہم اس کی قدر کرتے ہیں۔آپ نے ہمارے ملک کو بہت اونچا کیا ہے۔اس لیے میں یہاں افتتاح کے لیے آیا ہوں اسی طرح نبوده این۔اد کے نمائندے اور یونائیٹڈ سٹیٹس کے نمائندے بھی گئے۔امریکہ کا ایک مشہور رسالہ الا الف ہے جو چالیس لاکھ کی لفظ میں چھپتا ہے اس رسالہ میں ایک مضمون چھپتا تھا۔جس میں لکھا تھا کہ افریقہ میں احمدیت کثرت کے ساتھ پھیل رہی ہے۔اور وہیں۔4 لاکھ احمد می ہو گیا ہے۔حالانکہ اندازہ صرف ایک لاکھ سے اوپر کا ہے۔پھر الفضل میں شائع ہو چکا ہے کہ ایک عیسائی پر وفیسر نے اپنی ایک کتاب میں لکھاکہ آئندہ افریقہ کا مذہب اسلام ہوگا یا عیسائیت۔پھر وہ لکھتا ہے کہ پہلے یہ خیال تھا کہ افریقہ کا آئندہ مذہب ، سائیت ہوگا مگر اب یہ بات غلط ہوگئی ہے۔احمد یہ جماعت نے ملک میں بجوشن کھولے ہوئے ہیں ان کی وجہ سے یہ بات یقینی طور پر نہیں کہی جاسکتی کہ یہاں کا آئندہ مذہب عیسائیت ہوگا بلکہ بالکل ممکن ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد تمہیں یہ ماننا پڑے گا کہ اس ملک کا آئندہ مذہب اسلام ہوگا۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں جماعت بڑھ رہی ہے اور جب جماعت کی تعداد زیادہ ہو جائے گی تو ہماری پونڈوں کی وقت بھی دور ہو جائے گی۔ہمارا دوسو کے قریب مبلغ گولڈ کوسٹ میں کام کر رہا ہے اُن سب کے اخراجات مقامی جماعت خود دیتی ہے۔آنے جانے کے کرائے بھی دہی دیتے ہیں۔تو پھر میں خود شائع کرتے ہیں۔ہم بھی ان کو گرانٹ دیتے ہیں۔مگر اس لیے کہ قول نو د مالگ بھی تہذیب میں بہت پیچھے ہیں۔اور تمہارا فرض ہے کہ اُن کی مدد کریں۔دوسرے وہ تعداد میں ہم سے کم ہونے کے باوجود اس قدر قربانی کر رہے ہیں کہ سارے مبلغوں کو وہ خریچ دے رہے ہیں حالانکہ وہاں تخوا ہیں زیادہ ہیں۔مثلاً میرا بھتیجا مرزا مجید احمد جو کالج کا پرنسپل ہو کہ وہاں گیا ہے اُسے گورنمنٹ با حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے صاحبزادے