تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 453
۴۳۸ لیٹ تھی۔لیکن احباب شوق انتظار میں ایک خاص نظام کے ماتحت قطار دار اسٹیشن پر کھڑے رہے جونہی گاڑی اسٹیشن پر پہنچی تمام فضا نعرہ ہائے تکبیر کے پرجوش نعروں سے گونج امھٹی۔امیر مقامی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مولانا جلال الدین شمس اور دیگر بزرگان سلسلہ حضور سجے استقبال کے لیے آگے بڑھے۔جس ڈبے میں حضور تشریف فرما تھے اس کے ساتھ لکڑی کا ایک زمینہ لگا دیا گیا تھا۔تاکہ حضور بسہولت نیچے تشریف لا سکیں حضور نے دروازہ کھولتے ہی زمین بنانے کی ہدایت فرمائی چنانچہ حضور گاڑی کے پائیدانوں پر قدم رکھتے ہوئے نیچے اُترے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بیر احمد صاحب اور مولانا جلال الدین صاحب شمس نے آگے بڑھ کہ شرف مصالحہ حاصل کیا۔بعدہ حضور ان کی معیت میں احباب جماعت کی قطاروں میں سے گذرتے ہوئے اسٹیشن کے باہر تشریف لائے اور موٹر میں سوار ہونے کے بعد قصر خلافت تشریف لے گئے۔اس دوران میں عشاق خلافت پر جوش بفرے لگا کہ اپنے اخلاص و عقیدت اور والہانہ محبت کا اظہار کرتے رہے۔حضور کے ہمراہ صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منتونہ احمد صاحب، حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب ، میاں غلام محمد صاحب اختر ناظر علی ثانی اور کپیٹن شیر ولی صاحب (افسر حفاظت بھی واپس ربوہ پہنچے بیٹے اس سال کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ کرنل ایم ڈبلیو ڈگلس پیلاطوس ثانی ڈگلس کی وفات (Co۔۔۔DouGLUS) سی۔انہیں آئی۔سی۔آئی۔ای ریٹائرڈ چیف کمشنر جزائر انڈیمان و سابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور مورخہ ۲۵ فردی ۱۹۵۷ء کو لنڈن میں وفات پا گئے اس سلسلہ میں مرکز میں جو تار موصول ہوا اُس کا ترجمہ حسب ذیل ہے لنڈن ۲۵ فروری ۱۹۵۷ء کرنل ڈگلس جنہوں نے عیسائی پادریوں کے جھوٹے مقدمے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بری قرار دیا تھا۔آج یہاں ۹۳ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔امام بہت فضل لنڈن کرنل ڈگلس مومون بہت شریف نیک دل اور نہایت انصاف پسند انسان تھے۔ان کا یہ انصاف کبھی نہیں بھولایا ه روزنامه الفضل ربوده ، ر مارچ ۱۹۵۷ء الفضل ۲۸ فروری ۱۹۵۷ء صار ۸