تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 451 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 451

آپ جب تاریخ میں حضرت خالدہ اور معدہ اور عمران بن معدی کرب اور مزار کے حالات پڑھتے ہوں گے تو آپ کے دل میں خواہش ہوتی ہو گی۔کہ کاش ہم بھی اس زمانہ میں ہوتے۔اور خدمت کرتے گر اس وقت آپ کو بھول جاتا ہے۔کہ ہر سُخنے دیتے دیر نکتہ مقامے دارو اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے نے جہاد بالسیف کی جگہ جہاد تبلیغ اور بہادر بالنفس کا دروازہ کھوں ہے۔اور تبلیغ ہو نہیں سکتی جب تک روپیہ نہ ہو۔کیونکہ تبلیغ بر رومہ کے نہیں ہوسکتی۔نہیں آپ لوگ اس زمانہ کے مجاہد ہیں۔اور وہی ثواب ہو سہلوں کو ملا۔آپ کو مل سکتا ہے۔اوریل رہا ہے پس اپنے کام کو خوش اسلوبی سے کریں۔اور دوسروں کو سمجھائیں تا کہ آپ سب لوگ مجاہد فی سبیل اللہ ہو جائیں۔آمین والسلام ناکر مرزا محمود احمدی ۳ مارچ کو حضور نے جماعت احمدیہ کراچی کی لی عاملہ کو یہ دیس ہے اور اس کے بعد جماعت کے تمام افراد کو شرت مصافحہ عطا کیا۔اسی روز کراچی کے مختلف حلقوں سے نو افراد نے حضور کے دست مبارک پر بیعت کی۔اس سے پہلے بھی کئی سعید یہ وھیں حلقہ بگوش احمدیت ہوئیں۔قیام کراچی کے دوران حضور ظہر و عصر کی نمازوں کے بعد بالعموم مجلس عرفان میں رونق افروز ہوئے اور اپنے کلمات طیبات سے احباب کے ایمان دعرفان میں اضافہ فرماتے۔خلاصہ یہ ہے کہ کراچی کی مخلص جماعت نے اپنے پیارے آقا کی برکات سے فیضیاب ہونے کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا انہوں نے نہ صرف اپنے سینوں کو انوارہ خلافت سے منور کیا بلکہ غیر از جماعت دوستوں اور معززین شہر اور اعلیٰ افسران کی ایک کثیر تعداد کو حضور کی خدمت میں لانے کے مواقع پیدا کیے اور اس طرح کراچی تیرہ روز تک علم در عرفان کی بارش کا مرکز بنا رہا اور کراچی کے مختلف حلقوں میں احمدیت کا چھہ چا رہا ہے ۴ مارچ کو حضرت مصلح موعود کا پر دگرام چنا ایکپریس کے ذریعہ کراچی سے۔دانگی کا تھا جس سے گھنٹہ بھر قبل ہی جماعت احمدیہ کراچی کے تمام مخلصین جوق در جوق سٹیشن پر جمع ہونے مشروع لم الفضل ۲۸ مارچ ۱۹۵۷ء ص :: له الفضل و مارچ ۹۵۷اء ما