تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 422 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 422

سیاسی عقائد کو وہ فرد کے اپنے صغیر پر چھوڑ دیتے ہیں۔اس تحریک کے ربوہ پاکستان میں موجود صدر دفاتر کی طرف سے ملنے والی ہدایات میں کسی سیاسی ہدایت کا شائبہ تک بھی نہیں پایا جاتا۔اور نہ ہی اس کا آئندہ کوئی امکان نظر آتا ہے۔اس کے علاوہ مشہور مستشرق الفریڈ گوئیلام نے اس سال کتاب ISLAM " SS LAM“ شائع کی جس کے مت ۱۲ پر جماعت احمدیہ کی تبلیغی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا یہ لوگ اپنے عقائد کو پھیلانے اور ان کی تبلیغ کرنے میں غیر معمولی طور پر کامیاب رہے ہیں۔جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ میں انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو اسلام میں داخل کیا ہے۔ان کے اس دعوی کو کہ اب ان کی تعداد دس لاکھ تک پہ پہنچ چکی ہے مبالغہ پر محمول نہیں کیا جا سکتا ہے (ترجمہ) جناب بشیر احمد صاحب آرچرڈ شب در روز جزائر غرب الہند میں اعلائے جزائر غرب الہند کلیه اثر میں مصروف رہے۔آپ نے اشتہارات و منٹوں کے ذریعہ اللہ پیغام حق پہنچایا۔اور مارکیٹ سکوٹر کے ایک بڑے مجمع میں تقریمہ کی جس کا موضوع تھا " میں اسلام کو کیوں مانتا ہوں ؟۔اس تقریر سے لوگوں میں اسلام کے متعلق مزید دلچسپی پیدا ہوئی اور انہوں نے معلومات حاصل کیں۔بعض پادریوں سے بھی آپ کی اثر انگیز گفتگو ہوئی جس سے لوگ متاثر ہوئے یہ حضرت مصلح موعود کو ۱۹۵۲ء میں بذریعہ خواب بتا یا گیا کہ سیلون مشن | ر ہمارے سلسلہ کا لٹریچر سنہالی زبان میں بھی شائع ہونا شروع ہو گیا ہے اور اس سے نا کا اچھے بجلیں گے یکے اس رڈیا کا پہلا شاندار ظهور اس سال سر اکتریہ ۱۹۵۶ ء کو ہوا جبکہ جماعت احمدیہ سیلون کیطرات سے حضرت ہائی سلسلہ احمدیہ مسیح موعود کی کتاب " اسلامی اصول کی فلاسفی کا سنہالی ترجمہ پانچ ہزار کی تعداد میں شائع ہوا جو مولوی محمد اسماعیل صاحب میر مبلغ سیلون کی مساعی کا نتیجہ تھا اس موقع پر جماعت ہے له الفضل ۱۹؍ فروری ، ۱۹۵ اصلا کالم ۲ : له الفضل ۲۹ فروری ۱۹۵۶ء مث س الفضل ٢٢ور دسمبر ۱۹۵۲ عرصہ: کے الفضل ۱۴ر نومبر ۳۶۱۹۵۶۔